مسئلہ :- فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ ۵۲ میں لکھا ہے
ثلاث ساعات لا تجوز فیہا المکتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة إذا طلعت الشمس حتی ترتفع وعند الانتصاف إلی أن تزول وعند احمرارہا إلی الخ
یعنی تین وقتوں میں فرض نمازیں، نماز جنازہ اور سجدہ تلاوت جائز نہیں ہے۔
۱- آفتاب طلوع ہونے سے بلند ہونے تک۔
۲- نصف النہار سے سورج ڈھلنے تک۔
۳- احمرار شمس (سورج کا لال ہونا) سے غروب ہونے تک۔
تو کس صورت میں یہ ان تینوں اوقات میں نمازِ فرض نماز جنازہ اور سجدۂ تلاوت ادا کرسکتے ہیں،،،؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
فرض نماز اِس صورت میں ادا کرسکتے ہیں کہ اُسی دن کی عصر کی نماز نہیں پڑھا ہے تو سورج غروب ہونے سے پہلے پڑھ سکتا ہے ،
فتاویٰ ہندیہ میں ہے : أن یغیب إلا عصر یومہ ذلک فإنہ یجوز أداوٴہ عند الغروب۔ ج: ۱،ص: ۵۲،الفصل الثالث فی بیان الأوقات التی لا تجوز فیہا الصلاة وتکرہ فیہا)
اور نمازِ جنازہ اس صورت میں ادا کرسکتے ہیں کہ مکروہ وقت میں ہی جنازہ لایا گیا ہو،
اور سجدۂ تلاوت اس صورت میں کرسکتے ہیں کہ مکروہ وقت میں قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے آیت سجدہ آجائے ،
جیسا کہ حضرت، ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ :
والمذهب عندنا أن هذه الأوقات الثلاثة يحرم فيها الفرائض والنوافل، وصلاة الجنازة، وسجدة التلاوة إلا إذا حضرت الجنازة أو تليت آية السجدة حينئذ، فإنهما لا يكرهان " اھ
ترجمہ: ہم احناف کا مذہب یہ ہے کہ ان تین اوقات میں فرائض و نوافل اور نماز ِجنازہ اورسجدہ تلاوت حرام ہے ، مگر یہ کہ جب نماز جنازہ آئے ہی اس وقت میں یا آیت سجدہ اسی وقت میں پڑھی ہو ،تویہ مکروہ نہیں ۔
مرقاۃ المفاتیح، الجزء الثالث (۳) کتاب الصلاۃ، باب اوقات النھی، صفحہ (۱۱۲) دار الکتب العلمیہ)
وھکذا تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار جلد دوم )٢) ، صفحه (٤٣) دار الکتب العلمیہ
والله تعالیٰ اعلم
٦ صفر المظفر ۱۴۴۵ ھجری
۲۴ اگست ۲۰۲۳ عیسوی پنجشنبہ
Tags:
نماز کا بیان