مسئلہ :- زید کہتا ہے مسجد میں کرسی لگا کر وعظ کہنا بلا کراہت جائز ہے بکر کہتا ہے مسجد میں ایسا کرنا سخت مکروہ ہے دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
زید کا قول درست ہے کیونکہ
مسجد کے اندر کرسی وغیرہ لگا کر وعظ و تقریر کرنا بالکل جائز و درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ فتاوی مصطفویہ میں ہے کہ۔۔ منبر اینٹ چونے کا ہو یا لکڑی کا تخت کا ہو یا کرسی، مقرر اس پر بیٹھتا ہے یا کھڑا ہوتا ہے تاکہ پورے مجمع تک آواز پہنچے اور پورا مجمع اسے سنے اور تعظیم ذکر بھی اس سے حاصل ہوتی ہے ، پہلے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے منبر نہ تھا پھر منبر بنایا گیا ، کرسی پر بیٹھنا منبر و محراب کی توہین نہیں جیسے خود منبر مسجد کے لئے بنا ہوا ہے اس پر کھڑا ہونا یا بیٹھنا محراب کے احترام کے خلاف نہیں ۔ کرسی نہ ہوتی کوئی تخت بچھایا جاتا یا تخت ہوتا اس پر کرسی رکھی جاتی اس میں منبر اور محراب کے احترام کے خلاف ہوتا۔ (فتاوی مصطفویہ صفحہ ۶۳۰)
اور فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے کہ:مسجد کے اندر منبر ہوتے ہوئے کرسی وغیرہ لگا کر وعظ و تقریر یا نعت خوانی کے لئے بیٹھنا جائز و درست ہے۔ جلد اول صفحہ ۲۴۴باب أحكام المسجد
والله تعالیٰ اعلم
۲ صفر المظر ۱۴۴۵ ھجری
۲۰ اگست ۲۰۲۳ عیسوی یکشنبہ
Tags:
مسجد کا بیان