مسئلہ :- زید کہتا ہے چاند سورج کو قیامت کے دن جہنم میں ڈال دیا جائے گا بکر کہتا ہے ایسا کچھ نہیں ہے یعنی جہنم میں نہیں ڈالا جائے گا آیا یہ کہ دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مستفسرہ میں زید کا قول درست ہے چاند و سورج کو جہنم ڈالا جائے گا مگر بطور سزا نہیں بلکہ اپنے پجاریوں کی مذمت اور ان کو رسوا کرنے اور ان کو عذاب دینے کے لئے جہنم میں ڈالا جائے گا کہ دیکھو! جنکو تم خدا سمجھتے تھے اور جنکو تم پوجتے تھے تم کو عذاب سے بچانا تو در کنار آج وہ خود دوزخ میں پڑے ہیں اور خود کو دوزخ سے نہیں نکال سکتے ۔
نعم الباری شرح صحیح البخاری میں ہے کہ
" حدثنا مسدد قال حدثنا عبد العزیز بن المختار قال حدثنا عبد الفتاح الداناج قال حدثنی ابو سلمۃ بن عبد الرحمٰن عن أبی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال الشمس والقمر مکوران یوم القیامۃ " یعنی امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہمیں عبد العزیز بن المختار نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہمیں عبد الفتاح الداناج نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے حدیث بیان کی از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا سورج اور چاند کو قیامت کے دن لپیٹ دیا جائے گا " اھ
علامہ ابو سلیمان احمد بن محمد الخطابی المتوفی ۳۸۸ھ لکھتے ہیں ؛
اس حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ سورج کی روشنی کو جمع کرکے اس طرح لپیٹ دیا جائے گا جس طرح عمامہ کو لپیٹ دیا جاتا ہے علامہ خطابی فرماتے ہیں اس حدیث میں ایسا اضافہ بھی ہے جس کو امام بخاری نے ذکر نہیں کیا وہ اس طرح ہے کہ
عبداللہ الداناج بیان کرتے ہیں کہ میں اور سلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف بصرہ کی جامع مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اس وقت حسن بصری آئے اور وہ بھی وہیں بیٹھ گئے پھر انہوں نے حدیث بیان کی اور کہا کہ ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک سورج اور چاند قیامت کے دن دو بیل ہونگے جنکو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا حسن بصری نے پوچھا انکا کیا گناہ ہوگا جو انہیں دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ؟ تو عبداللہ داناج نے کہا تمکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہا ہوں تو حسن بصری خاموش ہوگئے ۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ سورج کو لپیٹ کر جو دوزخ میں ڈالا جائے گا یہ انکی کوئی سزا نہیں ہوگی بلکہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کی مذمت اور انکو رسوا کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ ڈالا جائے گا کہ دیکھو جن کو تم خدا سمجھتے تھے اور ان کی پرستش کرتے تھے تمکو عذاب سے بچانا درکنار آج وہ خود دوزخ میں میں پڑے ہیں اور خود کو دوزخ سے نہیں نکال سکتے
نعم الباری شرح صحیح البخاری جلد ششم صفحہ ۲۲٤ ؛ ۲۲۵
اور مرأۃ المناجیح میں ہے
و عن الحسن قال حدثنا ابو ھریرۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال الشمس والقمر ثوران مکوران فی النار یوم القیامۃ فقال الحسن وما ذنبھما فقال أحدثک عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فسکت الحسن " یعنی روایت ہے حضرت حسن سے فرماتے ہیں ہمکو حضرت ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنائی فرمایا سورج اور چاند قیامت کے دن گہنے ہوئے دو پنیر کے ٹکڑے ہونگے خواجہ حسن نے کہا کہ ان دونوں کا گناہ کیا ہے ابو ہریرہ نے فرمایا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہا ہوں تو خواجہ حسن خاموش ہوگئے
اس حدیث وضاحت کرتے ہوئے حکیم الامت صاحب تفسیر نعیمی حضرتِ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں
" یہ ہے کمال ایمان کہ حضور انور کا قول سن کر عقلی سوال کوئی نہ فرمایا اسکا جواب یہ ہے کہ وہاں چاند سورج عذاب پانے کے لئے نہیں جائیں گے بلکہ اپنے پجاریوں کو عذاب دینے جائیں گے انکی گرمی آگ کی گرمی سے ملکر عذاب کو دوبالا کردیگی دیکھو دوزخ میں عذاب دینے کے لئے فرشتے بھی تو ہونگے مگر وہ عذاب پانے کے لئے وہاں نہیں گئے بلکہ عذاب دینے کے لئے ہونگے نیز یہ دونوں نور ہیں اور نور کو نار تکلیف نہیں دیتی دیکھو مومنین وہاں کے گنہگاروں کو نکالنے کے لئے دوزخ میں جائیں گے مگر بالکل تکلیف نہیں پائیں گے " اھ
( مرأۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہفتم /صفحہ ۳۹۹ ٤۰۰/ باب جنت اور دوزخ کی پیدائش)
والله تعالیٰ اعلم
۱۳ محرم الحرام ۱۴۴۵ ھجری
۱ اگست ۲۰۲۳ عیسوی سہ شنبہ
Tags:
متفرقات