مسئلہ :- زید کہتا ہے جنات کو قابو میں کرنا مطلقاً کفر ہے بکر کہتا ہے جنات کو قابو میں کرنا صرف حرام ہے آیا یہ کہ دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب اللھم ہدایۃ الحق والصواب
دونوں کا قول غلط ہے
جنات کو قابو میں کرنا مطلقاً کفر نہیں اور نا ہی صرف حرام ہے بلکہ جنات کو قابو میں کربا سفلی علم وغیرہ کے ذریعے سے ہو تو حرام قطعی بلکہ اکثر صورتوں میں کفر
اور اگر سفلیات سے خالی ہو تب بھی احتراز چاہیے کہ اس سے انسان متکبر ہوجاتا ہے ،
جیسا کہ محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
اس کی تسخیر جو سفلیات سے ہو وہ تو حرام قطعی بلکہ اکثر صورتوں میں کفر ہے کہ بے ان کے خوشامد اور مدائح ومرضیات کے نہیں ہوتی، اور جو علویات سے ہو تو اگر چہ بصولت وسطوت ہے مگر اس کا ثمرہ غالبا اپنے کاموں میں شیطان سے ایک نوع استعانت سے خالی نہیں ہوتا کہ وہ غلبہ قاہرہ کہ :
ومن یزغ منہم عن امرہ نذقہ من عذاب السعیر ۳؎۔
اور ان میں سے جو کوئی اس کے حکم سے منہ پھیرے ہم اسے بھڑکتی آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۳۴/ ۱۲)
جو استجابت دعا
ھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی ۱؎
(مجھے ایسی بادشاہی دے ڈال جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔ ت) سے تاشی ہر ایک کو کہاں نصیب اور بالفرض نہ بھی ہو تو کافر شیطان کی مخالطت ضرور مورث تغیر احوال وحدوث ظلمت،
(۱؎ القرآن الکریم ۳۸/ ۳۵)
حضرت سیدنا شیخ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ کم از کم وہ ضرر کہ صحبت جن سے ہوتاہے یہ کہ آدمی متکبر ہوجاتاہے والعیاذباللہ ،
فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ۲۱ صفحہ ۲۱۸)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۱۸ ذی الحجہ ۱۴۴۴ ھجری
۷جولائی ۲۰۲۳ عیسوی جمعہ مبارکہ
Tags:
متفرقات