مسئلہ :- ہندہ اپنے سگے پھوپھا کے ساتھ حج کرنے جا سکتی ہے یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
نہیں جاسکتی
کیونکہ سفرِ شرعی پر عورت کے ساتھ ایسے محرم کا ہونا لازمی ہے جس سے ہمیشہ کے لیے اس عورت کا نکاح حرام ہے، اور صورتِ مسئولہ میں ہندہ کا نکاح اس کے پھوپھا سے ابھی حرام ہے، لیکن اگر اس کی پھوپھی کی وفات ہوجائے یا وہ مطلَّقہ ہوجائے تو بعدِ عدت ہندہ کا نکاح اس کے پھوپھا سے ہو سکتا ہے؛ کیونکہ پھوپھی اور بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے، نہ کہ دونوں میں سے کسی ایک کے مطلَّقہ ہونے یا وفات پانے اور عدت گزرنے کے بعد بھی دوسری سے نکاح حرام ہے. خلاصہ یہ کہ پھوپھا ہندہ کے لیے مَحرم اَبدی نہیں ہے، اس لیے ہندہ اپنے پھوپھا کے ساتھ نہیں جاسکتی.
_ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:*"(وَمِنْهَا الْمَحْرَمُ لِلْمَرْأَةِ) شَابَّةً كَانَتْ أَوْ عَجُوزًا إذَا كَانَتْ بَيْنَهَا وَبَيْنَ مَكَّةَ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ هَكَذَا فِي الْمُحِيطِ، وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ حَجَّتْ بِغَيْرِ مَحْرَمٍ كَذَا فِي الْبَدَائِعِ وَالْمَحْرَمُ الزَّوْجُ، وَمَنْ لَا يَجُوزُ مُنَاكَحَتُهَا عَلَى التَّأْبِيدِ بِقَرَابَةٍ أَوْ رَضَاعٍ أَوْ مُصَاهَرَةٍ كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ."*(کتاب المناسک،الباب الاول)
ردالمحتار میں ہے:*"(قَوْلُهُ: أَيُّهُمَا فُرِضَتْ إلَخْ) أَيْ أَيَّةُ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا فُرِضَتْ ذَكَرًا لَمْ يَحِلَّ لِلْأُخْرَى كَالْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا..."*(کتاب النکاح، فصل فی المحرمات) فتاویٰ رضویہ میں ہے:
پھوپھی بھتیجی دونوں ایک شخص کے نکاح میں ہونا یہ حرام ہے، مثلا بھتیجی نکاح میں ہے تو جب تک وہ نکاح میں رہے یا اگر اسے طلاق دے دے تو طلاق کی عدت جب تک نہ گزرے اس وقت تک اس کی پھوپھی سے نکاح حرام ہے."(ج:١١، ص:٦٨،ایپ)
واللہ تعالیٰ اعلم
۱۷ ذی الحجہ ۱۴۴۴ ھجری
۶ جولائی ۲۰۲۳ عیسوی پنجشنبہ
Tags:
محرمات کا بیان