دوسو درہم اور بیس دینار کی مالیت کس زمانے میں ایک ہی تھی؟

مسئله:- کیا حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیه وآلهٖ واصحابهٖ وبارک وسلم کے عہد مبارک میں دو سو درم اور بیس دینار دونوں کی مالیت ایک ہی تھی؟
بسم اللّٰه الرحمٰنِ الرحیم
 الجواب بعون الملک الوھاب ھدایۃ 
جی ہاں حضور اقدس صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابهٖ وبارک وسلم کے عہد مبارک میں دونوں کی مالیت ایک ہی تھی لیکن اس زمانے میں دس گنا فرق ہے جیسا که  بحرالعلوم حضرت علامہ،  مفتی عبدالمنان اعظمی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں
       حضورﷺ کے عہد مبارک میں دو سو درم اور بیس دینار دونوں کی مالیت ایک ہی تھی اور اسی کو حضور صلی اللّٰه علیه وسلم نے کم سے کم مالداری کی حد مقرر کی لیکن ہمارا زمانہ آتے آتے سونے کی مالیت میں غیر معمولی اضافه ہو گیا اور اندازہ یه ہے که دوسو درم اور بیس دینار کی مالیت میں دس گنا فرق ہو گیا-
فتاویٰ بحر العلوم جلد دوم صفحه نمبر۱۷۶باب زکاۃ کا بیان
مزید تفصیلات کے لیے فتاویٰ بحر العلوم مذکورہ جلد وصفحہ کا مطالعہ کریں 
واللّٰه سبحانهٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۱۴ذی الحجۃ الحرام شریف ۱۴۴۴ھجری بمطابق ۲جولائی۲۰۲۳عیسوی بروز یکشنبه ــــــــــــــــــ اتوار
Previous Post Next Post