چالیسواں دن بدھ کا ہو تو ناخن تراشنا کیسا ہے؟

مسئله:- ایک شخص نے ہاتھ کے ناخن نہیں تراشے یہاں تک که انتالیس دن گزر گیۓ اور چالیسواں دن بدھ کا ہے تو اب وہ شخص بدھ کے دن اپنے ناخن کو تراش سکتا ہے یا نہیں ؟
بسم اللّٰه الرحمٰنِ الرحیم، الجواب بعون الملک الوھاب
 ایسے  شخص کےلئے حکم یہ ہے کہ چالیسویں روز بھی اپنے ناخن کو کاٹے اگرچه بدھ ہی کا دن کیوں نه ہو اس لیۓ که چالیس دن سے زیادہ ناخن رکھنا ناجائز و مکروہِ تحریمی ہے جیساکه بہار شریعت حصہ ۱۶ صفحہ ۵۸۶ میں ہے : اعلیٰ حضرت سے اس طرح کا سوال کیا گیا کہ ایک حدیث میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی ممانعت آئی اور دوسری حدیث میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی فضیلت آئی ،ان دونوں روایتوں میں تطبیق یا ترجیح کی کیا صورت ہے اور بدھ کے دن ناخن تراشنا کیسا ہوگا؟ اس کے جواب میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :’’ناخن کاٹنے سے متعلق کسی دن کوئی ممانعت نہیں ، اس لیے کہ دن کی تعیین میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں ، البتہ بعض ضعیف حدیثوں میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی ممانعت ہے، لہٰذا اگر بدھ کا دن وجوب کا دن آجائے، مثلاً انتالیس دن سے نہیں تراشے تھے، آج بد ھ کو چالیسواں دن ہے، اگر آج نہیں تراشتا تو چالیس دن سے زائد ہوجائیں گے، تو اس پر واجب ہوگا کہ بدھ کے دن تراشے اس لیے کہ چالیس دن سے زائد ناخن رکھنا ناجائز و مکروہ تحریمی ہے۔ اور اگرمذکورہ صورت نہ ہو تو بدھ کے علاوہ کسی اور دن تراشنا مناسب کہ جانب منع کو ترجیح رہتی ہے۔‘‘ (’’ فتاویٰ رضویہ ‘‘ ،ج ۲۲ ،ص ۶۸۵ ، ملخصاً )
واللّٰه سبحانهٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ 
۱۲ذی الحجه شریف ۱۴۴۴ھجری بمطابق ۱جولائی۲۰۲۳عیسوی بروز شنبه ــــــــــــسنیچر
Previous Post Next Post