مسئلہ :- مورتی کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
مورتی کی خرید و فروخت کرنا حرام ہے کیونکہ یہ گناہ پر اعانت بھی ہے۔
اور اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ *ولا تعاونوا على الاثم والعدوان واتقوا الله شديد العقاب۔* اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔ کنزل الایمان سورہ المائدہ آیت نمبر (۲)
اور اسکی حرمت حدیث پاک میں بھی موجود ہے، *عن جابر ابن عبد اللہ عنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام فتح وهو بمكة ان الله ورسوله حرم بيع الخمر والميته والخنزير والاصنام
(شرح النووي على مسلم جلد (۲۲) کتاب المساقاة ۱۳ - صفحہ (۱۰۰۳) باب تحريم بيع الخمر والميتة)
ترجمہ۔ یعنی حضرت جابر ابن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپنے عام الفتح کے دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا بے شک اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے شراب اور مردار اور سور اور بتوں کی خرید وفروخت حرام کیا ہے۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ کسی بھی مسلمان کیلئے مورتیوں یعنی (بتوں) کی خرید و فروخت کرنا حلال نہیں ہے۔ اسلئے جو مسلمان بتوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ وہ توبہ و استغفار کرلیں۔ اور آئندہ ایسے کاموں سے گریز و پرہیز کریں۔اور کوئی جائز کام تلاش کریں۔
واللـہ تعـــالی اعلم بالصـــواب
۲۸ ذی الحجہ ۱۴۴۴ ھجری
۱۷ جولائی ۲۰۲۳ عیسوی دوشنبہ
Tags:
خرید و فروخت کا بیان