راستے کا کیچڑ کپڑے یا بدن میں لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

               
مسئلہ؛- سڑک کی کیچڑ کی بارے میں نجس ہونا معلوم نہیں تو وہ کیچڑ پاک ہے یا ناپاک؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
جب تک سڑک یا گلی،بازارکے راستے کی کیچڑکاناپاک ہونا یقینی طور پرمعلوم نہ ہو،وہ پاک ہے،تواگرکپڑوں یا بدن پر لگ جائے،توکپڑے اوربدن ناپاک نہیں ہوں گےاوراُسےدھوناضروری تونہیں،البتہ بہتر ہے،لیکن اگربغیر دھوئےنمازپڑھ لی،تب بھی نمازہو جائے گی اوراگراُس کیچڑ کا ناپاک ہونامعلوم ہومثلاً اُس میں نجاست کا اثرظاہر ہویا کوئی شرعا معتبر آدمی بتادے،توجس جگہ وہ ناپاک کیچڑلگے،وہ جگہ ناپاک ہو جائے گی،لیکن یاد رہےکہ صرف شک و شبہہ کی بنیاد پر کہ ہو سکتا ہےاس کیچڑ میں کوئی نجاست موجودہو،اُس کیچڑکو ناپاک نہیں کہہ سکتے،کیونکہ محض شک و شبہہ سے کسی چیز میں ناپاکی کا حکم ثابت نہیں ہوسکتا۔ خاتم المحققین حضرت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’’طین الشورع عفو وان ملأ الثوب للضرورۃ اقول:والعفو مقید بما اذا لم یظھر فیہ اثر النجاسۃ‘ اھ
  ترجمہ ضرورت کی وجہ سےراستوں کی کیچڑمیں معافی ورخصت ہے،اگرچہ کپڑےاس سے بھر جائیں میں(علامہ شامی) کہتا ہوں:یہ معافی اُسی صورت میں ہے،جبکہ اُس میں نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو۔ 
ردالمحتار جلد اول صفحہ ۵۸۳ مطبوعہ پشاور)  
اور فقیہ اعظم ہند حضرت صدرالشریعۃمفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’’راستہ کی کیچڑ پاک ہے،جب تک اس کا نجس ہونا معلوم نہ ہو،تواگر پاؤں یا کپڑےمیں لگی اور بے دھوئے نماز پڑھ لی،ہو گئی،مگر دھولینا بہتر ہے۔‘‘
بہار شریعت حصہ دوم صفحہ ۳۹۴ 
والله تعالیٰ اعلم 
۲۷ ذی الحجہ ۱۴۴۴ ھجری
۱۶ جولائی ۲۰۲۳ عیسوی یکشنبہ
Previous Post Next Post