استعمال ہونے والے زیور پر زکوۃ فرض ہے یا نہیں؟

مسئلہ :- زید کہتا ہے روزانہ استعمال ہونے والے زیور پر زکوۃ فرض نہیں اور بکر کہتا ہے زوانہ استعمال ہونے والے زیور پر بھی زکوۃ فرض ہے دونوں میں کس کا قول درست ہے ؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
بکر کا قول درست ہے 
 اتنا زیور ہے جس کی مقدار  نصاب کو پہونچتی ہے تو اگر چہ استعمال نہیں ہوتا ہے اس پر بھی  زکوۃ واجب ہے  کیونکہ زیور حاجت اصلیہ میں سے نہیں ہے  
جیسا کہ سرکار اعلیحضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں کہ اگر چہ پہننے کا زیور ہو اس پر بھی  زکوۃ لازم ہے زیور پہننا کوئی حاجت اصلیہ نہیں
فتاوی رضویہ جلد ۱۰صفحہ ۱۳۳ مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور)

حدیث شریف میں ہے
*عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي أَيْدِيهِمَا سُوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُمَا أَتُؤَدِّيَانِ زَکَاتَهُ قَالَتَا لَا قَالَ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَکُمَا اللَّهُ بِسُوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ قَالَتَا لَا قَالَ فَأَدِّيَا زَکَاتَهُ*
ترجمـہ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ   دو عورتیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  کے پاس آئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن تھے تو آپ نے ان سے فرمایا  کیا تم دونوں اس کی زکاۃ ادا کرتی ہو  انہوں نے عرض کیا  نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  نے ان سے فرمایا کیا تم پسند کرو گی کہ اللہ تم دونوں کو آگ کے دو کنگن پہنائے  انہوں نے عرض کیا  نہیں آپ نے فرمایا  تو تم دونوں ان کی زکاۃ ادا کرو 
(سنن الترمذی کتاب الزکاۃ حدیث ۶۳۷)
والله تعالیٰ اعلم 
۲۹ ذی الحجہ ۱۴۴۴ ھجری
۱۸ جولائی ۲۰۲۳ عیسوی سہ شنبه
Previous Post Next Post