برائے قربانی شہر ودیہات کا جو فرق ہے وہ کس اعتبار سے ہے؟

مسئله:- کیا فرماتے ہیں ذہنی آزمائش گروپ کے معزز جمله ممبران حضرات:- که قربانی والے کے لیۓ جو شہر اور دیہات کا فرق بتایا گیا ہے وہ کس اعتبار سے بتایا گیا ہے؟ 
بسم اللّٰه الرحمٰنِ الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب ھدایۃ الحق والصواب
شہر اور دیہات میں جو فرق بتایا گیا ہے وہ قربانی کے لحاظ سے ہے جیسا که حضور صدر الشریعه بدرالطریقه علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں
     مسئلہ ۲۷: یہ جو شہر و دیہات کا فرق بتایا گیا یہ مقام قربانی کے لحاظ سے ہے قربانی کرنے والے کے اعتبار سے نہیں یعنی دیہات میں قربانی ہو تو وہ وقت ہے اگرچہ قربانی کرنے والا شہر میں ہو اور شہر میں ہو تو نماز کے بعد ہو اگرچہ جس کی طرف سے قربانی ہے وہ دیہات میں ہو لہٰذا شہری آدمی اگر یہ چاہتا ہے کہ صبح ہی نماز سے پہلے قربانی ہو جائے تو جانور دیہات میں بھیج دے
بہار شریعت جلد سوم حصه پندرہ صفحه نمبر۳۳۹ قربانی کا بیان
واللّٰه سبحانهٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ 
۴ذی الحجہ شریف ۱۴۴۴ھجری بمطابق ۲۳جون۲۰۲۳عیسوی بروز آدینه ـــــــــــــــــــــــــجمعة المبارک
Previous Post Next Post