مسئله:- زید کہتا ہے که حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیه وآلهٖ واصحابهٖ وبارک وسلم نے ارشاد فرمایا که ذی الحجہ کے دس دنوں میں ناخن تراشنے اور سر کا بال حلق کرانے قول مروی ہے فرمایا سنت کو مؤخر نہیں کیا جاٸیگا اور بکر کہتا ہے که آقا ﷺ نے فرمایا که واجب کو ترک کیا جاۓ گا ان دونوں میں کس کا کہنا درست ہے؟
وعلیکم السلام ورحمتہ اللّٰه وبرکاته
الجواب بعون الملک الوھاب ھدایۃ الحق والصواب
زید کا قول درست ہے حضور صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابهٖ وبارک وسلم نے ارشاد فرمایا که ذی الحجہ کے دس دنوں میں ناخن تراشنے اور سر کا حلق کرانے میں سنت کو مؤخر نہیں کیا جاٸیگا جیسا که اس کے متعلق محمد امین ابن عمر الشہیر بابن عابدین شامی رضی ﷲ عنه تحریر فرماتے ہیں
خاتمه شرح المنیه میں کہا المضمرات میں ابن مبارک سے ذی الحجہ کے دس دنوں میں ناخن تراشنے اور سر کا حلق کرانے میں قول مروی ہے فرمایا سنت کو مؤخر نہیں کیا جاٸیگا جب که اس کے بارے میں حکم وارد ہے بس تاخیر واجب نه ہوگی اور صحیح مسلم شریف میں جو وارد ہے که رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابهٖ وبارک وسلم نے فرمایا جب ذی الحجہ کے دس دن داخل ہو جائیں اور تم میں سے کسی کا یه ارادہ ہو که وہ قربانی کرے تو وہ بال نه کاٹے اور نه ہی ناخن تراشے یه ارشاد دندب پر محمول ہے واجب پر نہیں اس پر سب کا اجماع ہے پس ان کا قول ولا یجب التاخیر ظاہر ہو گیا مگر وجوب کا نفی استحباب کے منافی نہیں پس یه مستحب ہوگا اگر تاخیر کی اباحت کے وقت زیادتی کو لازم کرلے اس کے آخری حد چالیس دن سے کم ہے اس سے زائد مباح نہیں القنیه میں کہا افضل یه ہے که ہر ہفته میں وہ اپنے ناخن تراشے زیر ناف بال کا حلق کرے اور غسل کرنے کے ساتھ اپنے بدن کو صاف کرے ورنه پندرہ دنوں میں چالیس زیادہ دنوں میں ترک میں کوئی عذر نہیں اور وہ وعید کا مستحق ہوگا پہلا قول افضل دوسرا درمیانه اور چالیس سب سے بعیدی ہے-
فتاویٰ شامی مترجم جلد سوم صفحه نمبر ۳۱۸ عیدین کا بیان
واللّٰه سبحانهٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۲ذی الحجۃ الحرام شریف ۱۴۴۴ھجری بمطابق ۲۲جون۲۰۲۳عیسوی بروز چہار شنبه ـــــــــــــــــــــــــبدھ
Tags:
عیدین کا بیان