نماز سے پہلے قربانی کی تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ :- زید دیہات میں رہتا ہے تو اس نے قربانی نماز کے پہلے ہی کرلی لیکن عمر کہتا ہے که تمہاری قربانی نہیں ہوئی ہے اس لیۓ که نماز کے پہلے قربانی نہیں ہوتی ہے نماز کے بعد کرنی چاہیۓ تو امر طلب یه ہے که زید کی قربانی ہو جاۓ گی یا نہیں اور عمر کا یه کہنا کیسا ہے؟
بسم اللّٰه الرحمٰنِ الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب ھدایۃ الحق والصواب 
     عمر کا کہنا غلط ہے کیونکه دیہات میں نماز کے پہلے بھی قربانی کرنا جائز ہے اور نماز کے پہلے قربانی کرنے سے  قربانی ہو جاۓ گی جیسا که اس کے متعلق حضور صدر الشریعه بدرالطریقه حضرت العلام مولانا و مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں
     شہر میں  قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز ہوچکے لہٰذا نماز عید سے پہلے شہر میں  قربانی نہیں  ہوسکتی اور دیہات میں  چونکہ نماز عید نہیں  ہے یہاں  طلوع فجر کے بعد سے ہی قربانی ہوسکتی ہے اور دیہات میں  بہتر یہ ہے کہ بعد طلوع آفتاب قربانی کی جائے اور شہر میں  بہتر یہ ہے کہ عید کا خطبہ ہوچکنے کے بعد قربانی کی جائے  یعنی نماز ہوچکی ہے اور ابھی خطبہ نہیں  ہوا ہے اس صورت میں  قربانی ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔
بہار شریعت جلد سوم حصه پندرہ صفحه ۳۳۹ قربانی کا بیان
واللّٰه سبحانهٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺ اعلم بالصواب
بہار شریعت جلد سوم حصه پندرہ صفحه نمبر۳۳۹ باب قربانی کا بیان
۱۷ذی القعدہ شریف۱۴۴۴ ھجری بمطابق ۷جون۲۰۲۳عیسوی بروز چہار شنبه ـــــــــــــــــــــــــبدھ
Previous Post Next Post