خنثیٰ جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

مسئله:- ایک شخص نے چھوٹے جانور (یعنی بکرا یا بکرا) کی قربانی کر دی جس میں نرم اور  مادہ دونوں کی علامتیں پائی جاتی ہیں تو اس شخص کو ایسے جانور کی قربانی کرنے سے  اس کی قربانی ہوگی یا نہیں؟؟
بسم اللّٰه الرحمٰنِ الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب ھدایۃ الحق والصواب
عیب دار جانوروں کی قربانی کرنا ناجائز ہے اور اسمیں بھی عیب کی علامت موجود ہے (یعنی نر اور مادہ دونوں علامتیں) تو جب ایسے جانوروں کی قربانی ناجائز ہے تو ظاہر ہے کوئی شخص  ایسے جانور کی قربانی  کرے تو قربانی نہیں ہوگی جیسا کہ حضور فقیه ملت  مفتی جلال الدین احمد امجدی علیه الرحمه فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ ۴۰۲ میں  تحریر فرماتے ہیں
      اور ایسی بکری جو نر بھی نه ہو یعنی خنثٰی ہو که جس میں نرم اور مادہ دونوں کی علامتیں پائی جاتی ہیں تو اس سے جانور کی قربانی جائز نہیں فتاویٰ عالمگیری جلد پنجم صفحه نمبر۲۶۳میں ہے لا تجوز التضحیۃ بالشاۃ الخنثٰی لان لحمھا ینضج۱ھ اور در مختار میں ہے لا بالخنثٰی لان لحمھا لا‌ینفج شرح وھبانیۃ- 
واللّٰه سبحانهٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ 
۲۲ذی القعدہ شریف۱۴۴۴ھجری بمطابق ۱۲جون۲۰۲۳عیسوی بروز دو شنبه ـــــــــــــــــــــــــپیر شریف
Previous Post Next Post