کیا یہ روایت درست ہے کہ قربانی کا جانور پلصراط پر سواری بنے گا ؟

مسئلہ :- کیا یہ روایت درست ہے کہ قربانی کا جانور پلصراط پر سواری بنے گا ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب 
جی ہاں قربانی کا جانور پل صراط پر سواری بنے گا جیساکہ جامع ترمذی  شریف میں منقول حدیث  سے ظاہر ہے  "  رواہ داؤد ترمذی وابن ماجہ عن ام المومنین العائشۃ الصدیقہ رضی الله عنہا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماعمل ابن آدم من عمل یوم النحر احب الی اللہ من اھراق الدم وانہ لیوتی یو م القیمة بقرونھا واشعارھا واظلافھا وان الدم لیقع من اللہ بمکان قبل ان یقع بالارض فیطیبوابھا نفسھا " 
داود، ترمذی و ابن ماجہ ام المومنین عائشہ   رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا  سے راوی کہ حضور اقدس  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم  نے فرمایا کہ’’ یوم النحر (دسویں  ذی الحجہ) میں  ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پیارا نہیں  اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں  کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک مقام قبول میں  پہنچ جاتا ہے لہٰذا اس کو خوش دلی سے کرو۔ ‘جامع الترمذي ‘‘ ،کتاب الأضاحی،باب ماجاء في فضل الأضحیۃ،الحدیث: ۱۴۹۸ ،ج ۳ ،ص ۱۶۲۔
اور حضرتِ سیِّدُنا علّامہ علی قاری علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں پھر اس کے لئے سُواری بنے گی جس کے ذَرِیعے یہ شخص بآسانی پُل صراط سے گزرے گا اور اُس (جانور) کا ہر عُضو مالِک (یعنی قُربانی پیش کرنے والے) کے ہر عُضْو (کیلئے جہنَّم سے آزادی) کافِدیہ بنے گا- 
[مِرْقاۃُ الْمَفاتِیح ج۳ ،ص۵۷۴ ،تحتَ الحدیث۱۴۷۰ ،مراٰۃ ج۲، ص۳۷۵) 
 اور فتاویٰ اکرمی صفحہ ۳۱۱ میں ہے 
 یقیناً قربانی کا جانور قربانی کنندہ کا کام آئےگا جیسا کہ حدیث پاک میں ہے
”استفرھوا اضحایاکم فانھا مطایاکم علی الصراط“اور ایک روایت میں
"حسنوا اور سمنوا“ بھی ہے
یعنی کہ موٹے اور تازے جانور کی قربانی کیا کرو کیوں کہ وہ پل صراط پر سواریاں ہوں گے (کنز العمال) 
والله تعالیٰ اعلم۔
۷ ذی الحجہ ۱۴۴۴ ھجری 
۲۶ جون ۲۰۲۳ عیسوی دوشنبہ
Previous Post Next Post