مسئلہ :- مقتدیوں میں کوئی اس لائق نہیں که جماعت کے وقت اقامت کہہ سکے تو امام صاحب ہی اقامت کہتے ہیں تو امام کو کب مصلے پر جانا چاہیۓ؟
بسم اللّٰه الرحمٰنِ الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب ھدایۃ الحق والصواب
مقتدیوں میں کوئی اس لائق نه ہو اور امام اقامت کہے تو جب قد قامت الصلوٰۃ پر پہونچے تب مصلے پر جائے ، حضور صدر الشریعه بدرالطریقه علامہ امجد علی اعظمی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں
اِقامت مثل اَذان ہے یعنی احکام مذکورہ اس کے لیے بھی ہیں صرف بعض باتوں میں فرق ہے، اس میں بعد فلاح کے قَدْ قَامَتِ الصّلاۃُ دو بار کہیں ، اس میں بھی آواز بلند ہو، مگر نہ اَذان کی مثل، بلکہ اتنی کہ حاضرین تک آواز پہنچ جائے ، اگر امام نے اِقامت کہی، تو قَدْ قَامَتِ الصَّلاۃُ کے وقت آگے بڑھ کر مصلّٰی پرچلا جائے۔ (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری، غنیہ وغیرہا)
بہار شریعت جلد اول حصه سوم صفحه نمبر۴۷۴ نماز کا بیان
واللّٰه سبحانهٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۱۸ذی القعدہ شریف ۱۴۴۴ھجری بمطابق ۸جون۲۰۲۳عیسوی بروز پنجشنبه ـــــــــــــــــــــــجمعرات
Tags:
نماز کا بیان