باپ نے بکرے کی قربانی کی وصیت کی بیٹے نے بڑے جانور میں حصہ لے کر قربانی کی تو کیا حکم ہے؟

مسئله:- خالد نے اپنے بیٹوں کو یه وصیت کی که میرے مرنے کے بعد ایک بکرے کی قربانی کر دینا تو اس کے بیٹوں نے بکرے کی قربانی کرنے کے بجائے بڑے جانور میں قربانی‌ کردی تو اب از روۓ شرع خالد کی وصیت پوری ہوگی یا نہیں؟
بسم اللّٰه الرحمٰنِ الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب 
 بڑے جانور میں قربانی‌ کر دینے‌ سے وصیت پوری ہوگئ قربانی چاہے جس جانور سے کیا جائے قربانی ہوجائے گی البتہ چھوٹے جانور میں صرف ایک ہی حصہ اور بڑے جانور میں سات حصہ لہذا چاہیں تو بڑے جانور میں حصہ لے کر یا بکری یا بکرا قربان کرنے سے وصیت پوری ہوجائے گی 
حضور صدر الشریعه بدرالطریقه علامہ امجد علی اعظمی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں کسی شخص نے یہ وصیت کی کہ اوس کی طرف سے قربانی کر دی جائے اور یہ نہیں بتایا کہ گائے یا بکری کس جانور کی قربانی کی جائے اور نہ قیمت بیان کی کہ اتنے کا جانور خرید کر قربانی کی جائے یہ وصیت جائز ہے اور بکری قربان کر دینے سے وصیت پوری ہوگئی (عالمگیری)
بہار شریعت جلد سوم حصه پندرہ صفحه نمبر۳۴۱ قربانی کا بیان
واللّٰه سبحانهٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۲۳ذی القعدہ شریف ۱۴۴۴ھجری بمطابق ۱۳جون۲۰۲۳عیسوی بروز سه شنـــبه ــــــــــــــمنگل
Previous Post Next Post