مسئله:- کسی شخص کو کب مسواک کرنا سُنَّتِ مؤکدہ ہے؟
الجـــــــــــواب بعـــــــــون المــــــلک الــــــوھاب
جب منه میں بدبو ہو تو اس وقت مسواک کرنا سُنَّتِ مؤکدہ ہے
فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول صفحہ ۷۳ میں ہے؛
ہر نماز کے لیے وضو کرتے وقت مسواک کرنا سُنَّتِ غیر مؤکدہ مستحبه ہے جیسا که در مختار مع شامی جلد۱، صفحه ۸۴میں ہے ویستحب السواک عندنا عند کل صلاۃ و وضوء"۱ھ- ہاں اگر منه میں بدبو ہو تو اسے دور کرنے کے لئے مسواک کرنا سُنَّتِ مؤکدہ ہے- جیساکه اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہٗ العزیز تحریر فرماتے ہیں: کونه سنة قبلية للوضوء: بالجمله بحکم متون و احادیث اظہر وہی مختار بدائع و زیلعی وحلیه ہے که مسواک وضو کی سُنَّتِ قبیله ہے ہاں سُنَّتِ مؤکدہ اس وقت ہے جب که منه میں تغیر ہو -"۱ھ فتاویٰ رضویه قدیم جلد اول صفحه نمبر ۱۵۵،
واللّٰه سبحانهٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۱۹ شوال المکرم شریف ۱۴۴۴ ھجری بمطابق ۱۰مئی ۲۰۲۳ عیسوی بروز چہار شنبه ـــــــــــــــبدھ
Tags:
وضو کا بیان