فیسبک کا استعمال کرنا کیسا ہے؟

مسئله:- فیس بک کا استعمال جائز امور کے لئے کسی شرعی قباحت کی آمیزش کے بغیر ہو تو کیا حکم ہے؟
الجـــــواب بعـــــون المــــــلک الــــــوھاب ھدایة الحق والصواب
       صورتِ مستفسرہ میں جواب یه ہے که فیس بُک کا استعمال اگر جائز امور کے لیۓ کسی شرعی قباحت کی آمیزش کے بغیر ہو تو جائز ہے ورنه ناجائز-
جیســــــاکه:-خلیفۂ حضورتاج الشریعه  حضرت علامہ مولانا محمد طفیل احمد مصباحی صاحب دام ظلہ تحریر فرماتے ہیں
 فیس بُک بذات خود رابطے ایک ذریعه ہے، جو استعمال کرنے والوں کے لحاظ سے جائز اور ناجائز کوئی بھی انجام دے سکتا ہے- اگر فیس بُک کا استعمال جائز امور(چیزوں) کے لیۓ کسی شرعی قباحت کی آمیزش کے بغیر ہو تو جائز ہے ورنه ناجائز-
 خط و کتابت، اپنی بات دوسروں تک پہونچانا، اپنے دوستوں کی خبر خیریت دریافت کرنا، اپنے دین و مذہب کی تبلیغ، انٹرنیٹ پر اسلام و سنیت کے خلاف کیے گئے اعتراض کا سنجیدہ انداز میں جواب دینا وغیرہ، یه تمام چیزیں فیس بُک کے ذریعے انجام دی جا سکتی ہیں اور یه چیزیں فیس بُک پر پر جائز ہیں اور فیس بُک میں اس قدر محو اور مشغول ہو جانا که دیگر فرائض و واجبات چھوٹ جائیں اس حد تک فیس بُک کا استعمال جائز اور درست نہیں-
کیوں که فیس بک میں اس حد تک محویت و مشغولیت یه" لہو و لعب میں داخل ہے اور اسلام میں تین کھیل کی علاوہ ہر قسم کے لہو و لعب باطل اور ناجائز ہیں لہٰذا فیس بُک کے وہ تمام باتیں جو لہو و لعب کے زمرے میں آئیں گی، وہ بھی باطل اور ناجائز ہوں گی- 
موبائل فون کے ضروری مسائل، صغحه ، ۱۸۷،

واللّٰه سبحانه تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ 
تاریخِ قمری__۱۵/شـــوال المکرم شریف٤٤٤١؁ھ
بــــــروز {{شنـــبه ــــــــــــــــــــــــــــــســنیچر
تاریخِ شمسی،،_،،۶///مئـی ـــــــــــــــــــــــ٣٢٠٢؁ء
Previous Post Next Post