مسئله:- امام سجدے تھا اور مقتدی سجدے میں اس وقت پہونچا که یه ایک دفعه سبحان ربی الاعلی کہہ پایا تھا که امام نے سر سجدے سے اٹھا لیا اب مقتدی کیا کرے تین تسبیح کہہ کر سر اٹھاۓ یا امام کی متابعت کرے؟
بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب ھدایۃ الحق والصواب
مقتدی کو تین بار تسبیح کہنے کی ضرورت نہیں بلکه امام کی متابعت کرے اور اپنے سر کو سجدے سے اٹھا لے جیسا که صدر الشریعه بدرالطریقه حضرت حکیم مفتی محمد امجد علی اعظمی علیه الرحمه ردالمحتار کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں
جو چیزیں فرض و واجب ہیں مقتدی پر واجب ہے کہ امام کے ساتھ انھیں ادا کرے، بشرطیکہ کسی واجب کا تعارض نہ پڑے اور تعارض ہو تو اسے فوت نہ کرے بلکہ اس کو ادا کرکے متابعت کرے، مثلاً امام تشہد پڑھ کر کھڑا ہوگیا اور مقتدی نے ابھی پورا نہیں پڑھا تو مقتدی کوواجب ہے کہ پورا کر کے کھڑا ہو اور سنت میں متابعت سنت ہے، بشرطیکہ تعارض نہ ہو اور تعارض ہو تو اس کو ترک کرے اور امام کی متابعت کرے، مثلاً رکوع یا سجدہ میں اس نے تین بار تسبیح نہ کہی تھی کہ امام نے سر اُوٹھا لیا تو یہ بھی اُٹھالے۔
(بہار شریعت جلد اول صفحه ۵۲۳)
واللّٰه تعالیٰ اعلم ورسوله ﷺ اعلم بالصواب
۵/شوال المکرم شریف ۱۴۴۴ھجری
۲۶/اپریل۲۰۲۳ عیسوی بروز چہار شنبه
Tags:
نماز کا بیان