قبر میں سوال وجواب عذاب و ثواب کس حالت میں کیا جاتا ہے؟

مسئله:- کیا قبر میں سوال و جواب اور عذاب و ثواب مردہ کو زندہ کرنے کے بعد کیا جاتا ہے؟ 
بسم اللّٰه الرحمٰنِ الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب ھدایۃ الحق والصواب
          قبر میں سوال و جواب اور عذاب و ثواب مردہ کو زندہ کرنے کے بعد کیا جاتا ہے یا دوسرے طریقے سے ہوتا ہے اس میں اختلاف ہے جیسا که  حضور فقیه مِلَّت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیه الرحمه فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحہ ۹۶ پر تحریر فرماتے ہیں
   قبر میں سوال و جواب اور عذاب و ثواب مردہ کو زندہ کرنے کے بعد کیا جاتا ہے یا کسی دوسرے طریقے سے- اس میں اختلاف ہے لہٰذا اس کے بارے میں صرف اس قدر عقیدہ رکھنا کافی ہے که مرنے کے بعد بھی روح کا تعلق جسم کے ساتھ باقی رہتا ہے اور خدا تعالیٰ مردہ میں ایسی حالت پیدا کر دیتا ہے جس کے وہ دیکھتا سنتا اور باتیں کرتا ہے  سوال کا جواب دیتا ہے اور عذاب و ثواب سے رنج و راحت پاتا ہے - حضرت صدر الشریعه علیه الرحمه بہار شریعت حصه اول صفحه نمبر ۲۵ میں تحریر فرماتے ہیں مرنے کے بعد بھی روح کا تعلق بدن انسان کے ساتھ باقی رہتا ہے اگرچه روح بدن سے جدا ہو گئی پھر چند سطر کے بعد اسی صفحه پر تحریر فرماتے ت مرنے کے بعد مسلمانوں کی روح حسب مرتبه مختلف مقاموں میں  رہتی ہے مگر کہیں بھی ہو  اپنے جسم سے کا تعلق بدستور رہتا ہے۱ھمخلصاً  اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری رضی ﷲعنه تحریر فرماتے ہیں اگر ہمیں قدر بدانند که پروردگار تعالیٰ در مردہ حالتے پیدا کند گه بداں چیزے از الم و راحت دریا بدر اعتقاد صحیح کفا واللّٰه تعالیٰ اعلم بحقیقۃ الحال
(اشعۃ اللمعات جلد ۱ صفحه نمبر ۱۱۴) 
وھو سبحانه و تعالیٰ اعلم ورسوله ﷺ اعلم بالصواب
۷ذی القعدہ شریف ۱۴۴۴ھجری بمطابق ۲۸مئـــی۲۰۲۳عیسوی بروز یکشنبه ــــــــــــــــــ اتوار
Previous Post Next Post