مسئله:- زید حج کرنے گیا اور زید نے طواف کے پہلے ہی احرام کی چادر کو داہنی بغل کے نیچے کرکے دونوں پلّو کو بائیں مونڈھے پر ڈال دیا تو زید کا طواف کے پہلے اس طرح چادر اوڑھنا کیسا ہے؟
_الجـــــواب بعـــــون المــــــلک الــــــوھاب
احرام کی چادر کو داہنی بغل کے نیچے کرکے بائیں مونڈھے پر ڈال رکھنا طواف کے پہلے خلافِ سُنَّت ہے جب طواف کرنا ہو تب اس طریقے سے اوڑھے (یعنی احرام کی چادر کو داہنی بغل کے نیچے کرکے دونوں پلّو کو بائیں مونڈھے پر ڈالنا)
جیسـاکه۔خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعه بدرالطریقه حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیه الرحمه فرماتے ہیں:
مرد سلے کپڑے اور موزے اُتار دیں ایک چادر نئی یا دُھلی اوڑھیں اور ایسا ہی ایک تہبند باندھیں یه کپڑے سفید اور نئے بہتر ہیں اور اگر ایک ہی کپڑاپہنا جس سے سارا ستر چھپ گیا جب بھی جائز ہے۔ بعض عوام یه کرتے ہیں که اسی وقت سے چادر داہنی بغل کے نیچے کرکے دونوں پلّو بائیں مونڈھے پر ڈال دیتے ہیں یه خلافِ سنت ہے، بلکه سنت یه ہے کہ اس طرح چادر اوڑھنا طواف کے وقت ہے اور طواف کے علاوہ باقی وقتوں میں عادت کے موافق چادر اوڑھی جائے یعنی دونوں مونڈھے اورپیٹھ اور سینه سب چھپا رہے۔
بہار شریعت جلد اول حصه، ششم، صفحه ،۱۰۷۹،باب احرام کا بیان
واللّٰه سبحانه تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
*تاریخِ قمری__۱۳/شــوال المـکرم شریف٤٤٤١ھ*
*بــــــروز {{پنجشنـــبه ـــــــــــــــــــــــجمعرات}}*
*تاریخِ شمسی،،_،،۴///مئـــی ـــــــــــــــــــــ٣٢٠٢ء*
Tags:
حج وعمرہ کا بیان