مسئله:- حضور صلی اللّٰه علیه وسلم جو کثرتِ سوال سے منع فرماتے تھے اس سے کیا مراد ہے؟
الجـــــواب بعـــــون المــــــلک الــــــوھاب
رسولِ کائناتﷺ نے جو کثرتِ سوال سے منع فرماتے تھے اس سے۔ قیل وقال و مال ضائع کرنا مراد ہے -
جیســــــــــــاکه:- فیض الباری تراجم فتح الباری میں ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللّٰه علیه شرح صحیح البخاری شریف کی حدیث شریف مرقوم ہے
حَدَّثَنَا مُوْسٰی حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَن وَرَّادٍ کَاتِبِ الْمُغِیْرَۃِ قَالَ کَتَبَ مُعَاوِیَۃُ أِلَی الْمُغِیْرَۃِ اکْتُبْ أِلَیَّ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ فَکَتَبَ أِلَیْهِ أِنَّ َنَبِیَّ اللّٰهِ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ فِی دُبُرِ کُلّ ِ صَلَاۃٍ لَا اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهٗ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلّ ِ شَیءٍ قَدِیْرٌ اللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدّ ِ مِنْکَ الْجَدُّ وَکَتَبَ أِلَیْهِ أِنَّهُ کَانَ یَنھٰی عَنْ قِیْلَ وَقَالَ وَکَثَرَۃِ الْسُّؤَالِ وَأِضَاعَۃِ الْمَالِ وََکَانَ یَنْھٰی عَن عُقُوقِ الْأُمَّھَاتِ وَوَأْدِ الْبَنَاتِ وَمَنَعٍ وَھَاتِ۰ قَالَ أَبُو عَبدِاللّٰهِ کَانُوا یَقْتُلُوْنَ بَنَاتَھُمْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ فِحَرَّمَ اللّٰهُ ذٰلِکَ۰
ترجمه حضرت ورَّاد مغیرہ بن شعبه رضی ﷲ عنه کے کاتب سے روایت ہے که معاویه نے حضرت مغیرہ رضی ﷲ عنه کو لکھا که میری طرف لکھ جو تونے حضرتِ سے سنا ہے تو حضرتِ مغیرہ رضی ﷲ عنه نے اس کی طرف لکھا که حضرت ﷺ ہر نماز کے پیچھے یه ذکر کہتے تھے *لا الٰه سے منک الجد* تک یعنی کوئی لائق عبادت کے نہیں سواۓ اللّٰه تعالیٰ کے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کو سب شکر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے الٰہی! نہیں کوئی روکنے والا تیری دی چیز کو اور کوئی دینے والا نہیں تیری رد چیز کو اور تیرے روبرو نصیبے والے مالدار کو اس کا مال کچھ فائدہ نہیں دیتا اور نیز اس نے اس کی طرف لکھا که حضرت ﷺ منع کرتے تھے قیل وقال اور کثرتِ سوال اور مال کے ضائع کرنے کے اور منع فرماتے تھے ماؤں کی نافرمانی سے اور زندہ لڑکیوں کے گاڑنے سے، کہا حضرتِ ابو عبداللّٰه رضی ﷲ عنه نے که کفر کے وقت اپنی لڑکیوں کو مار ڈالتے تھے سو اللّٰه نے اس کو حرامکیا۰-
افادہ : غرض اس حدیث کے یہاں لانے سے یه ہے که حضرت ﷺ منع کرتے تھے قیل وقال سے اور کثرت سوال سے اور پہلے گزر چکے ہے بحث گه کثرتِ سوال سے کیا مراد ہے؟ کیا وہ خاص ہے ساتھ مال کے یا احکام کے یا عام تر ہے اس سے اور اولٰی حمل کرنا اس کا ہے عموم پر یعنی مال اور احکام وغیره سب کو شامل ہے اور سب چیز میں کثرتِ سوال منع ہے لیکن منع اس چیز میں ہے جس کی سائل کو حاجت نه ہو اور باقی شرح کتاب الرقاق میں گزری-
فیض الباری تراجم فتح الباری شرح صحیح البخاری شریف جلد، ۲۸ ، صفحه ،۵۲۴، باب کتاب الاعتصام
واللّٰه سبحانه تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
تاریخِ قمری__۱۴/شـــوال المکرم شریف٤٤٤١ھ
بــــــروز {{آدینه ـــــــــــــــــــــــجمعة المبارک}}
تاریخِ شمسی،،_،،۵///مئــی ــــــــــــــــــــــ٣٢٠٢ء
Tags:
متفرقات