مسئلہ وہابی دیوبندی یا رافضی کسی سن٘ی کو سلام کرے اور خوفِ فتنہ نہ ہو تو ان کے سلام کا جواب دینا کیا کیسا ہے؟
الجـــــواب بعـــــون المــــــلک الــــــوھاب ھدایة الحق والصواب صورتِ مستفسرہ میں جواب یه ہے که وھابی دیوبندی یا رافضی وغیرہ کسی سنی کو سلام کرے اور اگر خوفِ فتنه نه ہو تو ان کے سلام کا جواب دینا اصلاً حاجت نہیں-
جیســـــاکه حضور اعلیٰ حضرت عظیم البرکت کنز الکرامت جبل استقامت امام اہلسنت مجدد دین و ملت حامی سنت ماحی بدعت امام احمد رضا خان علیه الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں
اگر خوفِ فتنه نه ہو جواب کی اصلاً حاجت نہیں ولا یقاسون علی ذمی بل ولا چربی لان حکم المرتد اشد اور خوف فتنه ہو تو صرف وعلیک کہے اور در مختار میں ہے لو سلم یہودی او نصرانی او مجوسی علی مسلم فلا بأس بالر دولکن لا یزید علی قوله وعلیک کما فی الخانیۃ اب ایک صورت یه رہی که اس قدر پر اقتصار میں بھی خوف صحیح ہو یا معاذاللّٰه کسی مسلمان کو انہیں ابتداۓ اسلام کی ضرورت و مجبوری شرعی ہو تو کیا کرے اقول پورا سلام کہے اور چاہے تو ورحمۃ اللّٰه وبرکاته بھی بڑھاۓ اور اصلاً مضایفه شرعیه نه آۓ اس کے کیا صورت ہے یه که ہر شخص کے ساتھ اگرچه کافر ہو کراماً کاتبین اور کچھ ملائکه حافظین ہوتے ہیں قال اللّٰه تعالیٰ کلا بل تکذبون بالدین وان علیکم لحافظون کراماً کاتبین قال وله معقبت من بین یدیه ومن خلفه یحفظونه من امر اللّٰه اپنے جواب یا سلام میں ان ملائکه پر سلام کی نیت کرے-
فتاویٰ افریقہ صفحه ، ۱۴۴،
واللّٰه سبحانه تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
Tags:
سلام کا بیان