مسئله:- زید قید میں تھا اور وہ نماز پڑھنے لگا تو ظالموں نے اسے نماز کی حالت میں بات کرنے پر مجبور کیا تو اب اس کی نماز کا کیا حکم ہے نماز ہوگی یا نہیں؟
الجـــــواب بعـــــون المــــــلک الــــــوھاب
نماز نہیں ہوگی اگرچه مجبور کیا گیا کیونکہ کلام کرنا پایا گیا
جیســــــــــــاکه:- خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعه بدرالطریقه حضرت حکیم مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیه الرحمه فرماتے مختار کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں: کلام مفسد نماز ہے، عمداً ہو یا خطاء ً یا سہواً، سوتے میں ہو، یا بیداری میں اپنی خوشی سے کلام کیا، یا کسی نے کلام کرنے پر مجبور کیا، یا اس کو یہ معلوم نه تھا که کلام کرنے سے نماز جاتی رہتی ہے۔ خطا کے معنی یه ہیں که قراءت وغیرہ اذکارِ نماز کہنا چاہتا تھا، غلطی سے زبان سے کوئی بات نکل گئی اور سہو کے یه معنی ہیں که اسے اپنا نماز میں ہونا یاد نه رہا۔
بہار شریعت جلد اول حصه سوم، صفحه ،۶۰۸، نماز فاسد کرنے والی چیزوں کا بیان
واللّٰه سبحانه تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
تاریخِ قمری__۱۸/شــوال الـمکرم شریف٤٤٤١ھ
بــــــروز {{سه شنـــبه ــــــــــــــــــــــــــــمنگل}}
تاریخِ شمسی،،_،،۹///مئــی ــــــــــــــــــــــ٣٢٠٢ء
Tags:
نماز کا بیان