مسئله:- اگر عورتوں نے مرد کے پیچھے جماعت سے نماز ادا کی اور مرد نے ان عورتوں کے امام ہونے کی نیت کی ہے تو ان عورتوں پر تکبیر تشریق پڑھنا کیسا ہے؟
بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمْ
الجواب بعون الوہاب الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں عورتوں کو بھی تکبیر تشریق کہنا واجب ہے اور آہستہ کہیں
جیسا کہ در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " و وجوبه علی إمام مقیم بمصر وعلی مقتد مسافر أو قروی أو امرأۃ لکن المرأۃ تخافت و یجب علی مقیم اقتدی بمسافر ، و قالا بوجوبه فور کل فرض مطلقاً ولو منفرداً أو مسافراً أو امرأۃ لأنه تبع للمکتوبة " اھ ( در مختار مع رد المحتار جلد سوم صفحہ ۷۴ کتاب الصلاۃ ، باب العیدین ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور جوھرہ نیرہ میں ہے کہ " و اما عند ابى حنيفة لا تكبير الا على الرجال الاحرار المكلفين المقيمين فى الامصار إذا صلوا مكتوبة بجماعة من صلاة هذه الايام و على من يصلى معهم بطريق التبعية......... يجب على اهل الامصار دون الرساتيق ................ وعلى من صلى بجماعة لا من صلى وحده و على الرجال دون النساء وان صلين بجماعة " اھ ( جوھرہ نیرہ شرح مختصر القدوری صفحہ ۱۶۸ : مطبوعہ بیروت ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " تکبیر تشریق اس پر واجب ہے جو شہر میں مقیم ہو یا جس نے اس کی اقتدا کی اگرچہ عورت یا مسافر یا گاؤں کا رہنے والا اور اگر اس کی اقتدا نہ کریں تو ان پر واجب نہیں ۔ غلام پر تکبیر تشریق واجب ہے اور عورتوں پر واجب نہیں اگرچہ جماعت سے نماز پڑھی، ہاں اگر مرد کے پیچھے عورت نے پڑھی اور امام نے اس کے امام ہونے کی نیت کی تو عورت پر بھی واجب ہے مگر آہستہ کہے "
(بہار شریعت جلد اول، حصه چہارم، صفحه ۷۸۵ عیدین کا بیان مطبوعہ مکتبۃ المدینہ
۲شوال المکرم شریـف٤٤٤١ھ
۲۳اپریل۲۰۲۳عیسوی بروز یکشنبه ــــــــــــــــــ اتوار
Tags:
عیدین کا بیان