مسئله:- زید نے انجانے میں اپنی سالی سے یا اپنی بیوی کے خاله سے نکاح کیا اور بعد کو معلوم ہوا اور تفریق ہوئی تو زید پر اپنی بیوی کا نفقه واجب ہے یا نہیں؟
بسم اللّٰه الرحمٰنِ الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب ھدایۃ الحق والصواب اگرچہ انجانے میں اپنی سالی سے یا اپنی بیوی کی خاله سے نکاح کیا ہو معلوم پڑنے پر تفریق ہوگئی تو بعدِ تفریق بھی زید پر اس کی بیوی کا نفقه واجب ہے جیساکه حضور صدر الشریعه علامہ امجد علی اعظمی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں
انجانے میں عورت کی بہن یا پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا بعد کو معلوم ہوا اور تفریق ہوئی تو جب تک اس کی عدت پوری نہ ہوگی عورت سے جماع نہیں کرسکتا مگر عورت کانفقہ واجب ہے اور اُس کی بہن، پھوپی، خالہ کا نہیں اگرچہ ان عورتوں پر عدت واجب ہے۔
بہار شریعت حصه۸ہشتم صفحه ۲۶۳ نفقه کا بیان
واللّٰه تعالیٰ اعلم ورسوله ﷺ اعلم بالصواب
۶ذی القعدہ شریف۱۴۴۴ھجری بمطابق ۲۷مئـــی۲۰۲۳عیسوی بروز شنبه ــــــــــــسنیچر
Tags:
نفقہ کا بیان