مسئله:-قبر پر اذان دینا کیسا ہے؟
الجواب بعـــــون المــــــلک الــــــوھاب قبر پر اذان جائز و مستحب ہے
جیساکہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعه بدرالطریقه حضرت مفتی محمد امجد علی اعظمی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں:
بچّے اور مغموم کے کان میں اور مرگی والے اور غضب ناک اور بد مزاج آدمی یا جانور کے کان میں اور لڑائی کی شدّت اور آتش زدگی کے وقت اور بعد دفن میت اور جن کی سرکشی کے وقت اور مسافِر کے پیچھے اور جنگل میں جب راستہ بھول جائے اور کوئی بتانے والا نہ ہو اس وقت اَذان مستحب ہے۔ وبا کے زمانے میں بھی مستحب ہے۔
بہار شریعت جلد اول، حصه سوم، صفحه نمبر، ۴۷۰، اذان کا بیان
اور امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے رسالہ مبارکہ
: ایذان الاجرفی اذان القبر میں پندرہ دلیلوں سے ثابت فرمایا ہے کہ قبر پر آذان دینا مستحب ہے
واللّٰه سبحانه تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
تاریخِ قمری__۱۶/شــوال المـکرم شریف٤٤٤١ھ
بــــــروز {{یکشنه شنـــبه ـــــــــــــــــــــــاتوار}}
تاریخِ شمسی،،_،،۷///مئــی ــــــــــــــــــــــ٣٢٠٢ء
Tags:
اذان کا بیان