میز پر کھانا ، کھانا کس کا طریقۂ خاص ہے؟

مسئله:-   میز پر بیٹھ کر کھانا کھانا یه کس کی خاص وضع ہے یعنی کس کا طریقه ہے؟ 
بسم اللّٰه الرحمٰنِ الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب ھدایۃ الحق والصواب
یه نصاریٰ کی خاص وضع ہے
اسی طرح ایک سوال کے جواب میں حضور اعلیٰ حضرت رضی اللّٰه عنه تحریر فرماتے ہیں
کھانا کھاتے وقت جوتا اتار لینا سنت ہے دارمی و طبرانی   و ابو یعلیٰ و حاکم بافادہ تصحیح حضرتِ انس رضی اللّٰه عنه سے راوی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابهٖ وبارک وسلم فرماتے ہیں اذا اکلتم الطعام فاخلعو انعالکم فانه اروح لا قدامکم وأنھا سنۃ جمیلۃ، جب کھانا کھانے بیٹھو تو جوتے اتار لو که اسمیں تمہارے پاؤں کے لیۓ زیادہ راحت ہے اور یه اچھی سنت ہے شرعۃ الاسلام میں ہے یخلغ نعلیه عند الطعام کھاتے وقت جوتے اتار لے جوتا پہنے کھانا اگر اس عذر سے ہو که زمین پر بیٹھا کھا رہا ہے اور فرش نہیں جب تو صرف ایک سنت مستحبه کا ترک ہے اس کے لیۓ بہتر یہی تھا که جوتا اتار لے اور میز پر کھانا،  کھانا یه نصاریٰ کی خاص وضع ہے اگر میز پر کھانا اور یه کرسی پر جوتا پہنے تو یه وضع خاص نصاریٰ کی ہے اس سے دور بھاگے اور رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابهٖ وبارک وسلم کا وہ ارشاد یاد کرے- من تشبه بقوم فھو منہم جو کسی قوم سے مشابہت پیدا کرے وہ انہیں میں سے ہے  رواہ احمد و ابو داؤد و ابو یعلیٰ والطبرانی فی الکبیر عن ابن عمر وفی الاوسط عن حذیفۃ رضی اللّٰه تعالیٰ عنھم کلاھما پسند حسن-
(فتاویٰ افریقه  صفحه ۴۱)
اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعه بدرالطریقه حضرت حکیم مفتی محمد امجد علی اعظمی علیه الرحمه  تحریر فرماتے ہیں
        مسلمانوں   کے کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ فرش وغیرہ پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں  ، میز کرسی پر کھانا نصاریٰ کا طریقہ ہے، اس سے اجتناب چاہیے بلکہ مسلمانوں   کو ہر کام سلف صالحین کے طریقہ پر کرنا چاہیے، غیروں   کے طریقہ کو ہر گز اختیار نہ کرنا چاہیے۔
بہار شریعت جلد سوم حصه سوله، صفحه نمبر ۳۸۴، باب کھانے کا بیان 
واللّٰه سبحانهٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۳شوال المکرم شریف۱۴۴۴ ھجری بمطابق ۲۴مئـــی۲۰۲۳عیسوی بروز چہار شنبه ـــــــــــــــــــــــــبدھ
Previous Post Next Post