کبوتر کا گوشت کھایا قے ہوئی تو قے پاک ہے یا ناپاک؟

مسئله:-   زید نے کھانے میں کبوتر کا گوشت کھایا تھا زید کی طبیعت خراب ہونے کی وجه سے قے ہوئی تو قے میں جو کبوتر کا گوشت نکلا  تو  وہ قے پاک ہے یا ناپاک؟
بِسمِ اللّٰهِ الْــرَّحْـــمٰنِ اْلْــــرَّحِـــــیمْ
الجواب بعون الملک الوھاب ھدایۃ الحق والصواب
   جس جانور کی بیٹ پاک اس کی قے بھی پاک ہے جیسے که کبوتر کی بیٹ پاک ہے تو اس کی قے بھی پاک ہے  جیسا که اسی کے متعلق حضور سیدی وسندی‌آقائی و مولائی سرکار اعلیٰ حضرت رضی ﷲ عنه تحریر فرماتے ہیں که ہر جانور کی قے اس کی بیٹ کا حکم‌ رکھتی ہے جس کی بیٹ پاک ہے جیسے چڑیا یا کبوتر اس کی قے بھی پاک ہے اور جس کے نجاست خفیفه جیسے باز یا کوّا اس کے قے بھی نجاست خفیفه اور جس کی نجاست غلیظه ہے بط‌ یا مرغی اس کی قے بھی نجاست غلیظه، اور قے سے مراد وہ کھانا پانی وغیرہ ہے جو پوٹے سے باہر نکلے که جس جانور کی بیٹ ناپاک ہے اس کا پوتا معدن نجاسات ہے پوٹے سے جو چیز باہر آۓ گی خود نجس ہوگی یا نجس سے مل‌ کر آۓ گی بہر حال مثل بیٹ نجاست رکھے گی، خفیفه میں خفیفه اور غلیظه میں غلیظه بخلاف اس چیز کے جو ابھی تک پوٹے نه پہونچی تھی که نکل آئی مثلاً مرغی نے پانی پیا ابھی گلے ہی میں تھا که اُچھّو لگا اور نکل گیا یه پانی‌پیٹ کا حکم نه رکھے گا لانه مااستحال الی نجاسۃ ولا لاقی محلھا کیوںکه اس نے نجاست ‌میں حلول نہیں کیا اور نه ہی نجاست کی جگه سے ملا بلکه اس سؤر یعنی جھوٹے کا‌حکم‌ دیا جاۓ گا  
واللّٰه تعالیٰ اعلم ورسوله ﷺ اعلم بالصواب
(فتاویٰ رضویہ مترجم جلد چہارم صفحه ۳۹۱) 
۲۸رمضان المبارک شریف۱۴۴۴ھجری
۲۰اپریل۲۰۲۳عیسوی بروز پنجشنبه ــــــــــــــــــــــــــ جمعرات
Previous Post Next Post