مسئله:- عاقل نابالغ بچه جو قرآن کا سب سے زیادہ جانکاری رکھتا ہو تو اس کی امامت کس امام کے نزدیک جائز و درست ہے؟
بِســــمِ الــــلّٰهِ الرَّحــــمٰنِ الرَّحِــــیم
الجـــــواب بعـــــون المــــــلک الــــــوھاب
عاقل نا بالغ بچه جو قرآن کا سب سے زیادہ جانکاری رکھتا ہے تو اس کی امامت عالمُ العَصْر، ناصرُ الحدیث، فَقِیْهُ الْمِلَّة، حضرت سیّدنا امام ابو عبد اللّٰه محمد بن ادریس شافعی علیه رحمة اللّٰه الکافی کے نزدیک جائز و درست ہےجیسا که امام عبدالرحمٰن احمد بن شعیب بن نسائی رضی ﷲ عنه حدیث شریف نقل فرماتے ہیں
أَخْبَرنَا مُوسَی بنُ عَبدِ الرحمٰنِ المَسروفِیّ ِ حَدَّثَنَا حسینُ بنُ علی عن زائدۃَ عَن سفیانَ عن أیُّوب قَالَ حَدَّثَنِی عَمروبنُ سلمة الجرمی قَالَ کان یمُرُّ علینا الرُّکبانُ فَنَتَعَلَّمُ مِنھُم القرآنَ فأَتَی أبی النَّبِیَّ ِ ﷺ فقاللِیَؤُمَّکُم أکثَرُکُم قُرآنا فَجَاءَ أَبِی فَقَالَ أِنَّ رسولَ اللّٰهِ ﷺ قَالَ لِیَؤُمَّکُم أَکثَرُکُم قُرآنَا فنظرو فکنت أکثرھم قُرآنَا فَکنت أَؤُمُّھُم وأنا بن ثمان سنین،
(سنن نسائی جلد اول صفحہ ۳۰۲)
ترجمه عمرو بنسلمه جرمی نے روایت کی ہے که ہمارے پاس سے قافلے گزرتے، ہم ان سے قرآن حکیم، میرے والد، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوۓ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہاری امامت وہ کراۓ جس کے پاس زیادہ قرآن ہو(جسے زیادہ حصه قرآنمجید کا یاد ہو ) میر والد آۓ اور کہا: رسول اللّٰه ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے تمہیں وہ آدمی امامت کراۓ جس کے پاس زیادہ قرآن ہو لوگوں نے تلاش کی تو میں ان میں سے ایسا تھا جس کے پاس قرآن حکیم کا زیادہ حصه تھا میں ان کی امامت کراتا تھا جبکه میری عمر آٹھ سال تھی -
البتہ احناف کے نزدیک نابالغ بچے پر نماز فرض نہیں ہوتی بلکه وہ فرائض ادا کرے تب بھی نفل کے حکم میں ہوتے ہیں جبکه عاقل بالغ پر نماز فرض ہو جاتی ہے فرض پڑھنے والے فرض پڑھنے والے کی اقتداء نفل پڑھنے والے کے پیچھے نہیں ہو سکتی جبکه امام شافعی رضی ﷲ عنه کے نزدیک یه جائز ہے صحابه سرور دو عالم ﷺ کے عمومی ارشاد کے ظاہر پر عمل کیا انہوں نے حقیقت حال کو حضور ﷺ کی بارگاہ میں پیش نہیں کیا تھا-
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۲۵رمضان المبارک شریف ۱۴۴۴ھجری
۱۷اپـــــــــــــــــــــــــــــریل۲۰۲۳عیسوی بروز دوشنبه ـــــــــــــــــــــــ پیر شریف
Tags:
امامت کا بیان