غیرمسلموں کی خوشیوں کے موقع پر ان کو کرایه پر برتن دینا کیسا ہے؟

مسئله:-   زید اور عمر میں بحث ہوئی اس بات پر که زید کا کہنا ہے که فاسقوں اور غیرمسلموں کی خوشیوں کے موقع موقع پر ان کو کرایه پر برتن دینا جائز اور عمر کا کہنا ہے که ناجائز و حرام ہے آیا ان دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بِســــمِ الــــلّٰهِ الرَّحــــمٰنِ الرَّحِــــیم
الجواب بعون الملک الوھاب
           زید کا قول جائز و درست ہے فاسقوں اور غیرمسلموں کی خوشیوں کے موقع پر ان کو کرایه پر برتن دینا جائز ہے اس لیۓ که ان‌برتنوں میں ان‌ کے کھانے سے ان میں نجاست سرایت نہیں کرتی ہے اور وہ برتن‌بھی دھونے سے پاک بھی ہو جاتا ہے فتاویٰ مرکز تربیت افتاء میں ہے
فاسقوں اور غیرمسلموں کی خوشیوں کے موقع پر ان کو کرایه پر برتن دینا جائز ہے اس لیۓ کے ان برتنوں میں کھانے سے برتن میں نجاست سرایت نہیں کرتی ہے اور جو نجاست بھی ہے دھونے سے برتن پاک ہو جاتا ہے مگر تقویٰ احتراز میں ہے اس لیۓ که ہندوستان کے غیر مسلموں کے بارے میں مشاہدہ ہے که عموماً سخت ناپاکیوں میں آلودہ رہتے ہیں حتٰی که گاۓ کے پیشاب اور گوبر بھی پاک اور پاک کرنے والا مانتے ہیں جو نجس العین ہے ہاں اگر یه غالب گمان ہو که برتن چوتھا چھوڑ دیں گے جسے کتے وغیرہ چاٹیں گے تو نه دیں که برتن کو تنجیس سے بچانا واجب ہے-
 واللّٰه تعالیٰ اعلم ورسوله ﷺ اعلم بالصواب 
( جلد اول صفحه نمبر،۷۸، کتاب الطہارۃ) 
۲۴رمضان المبارک شریف ۱۴۴۴ھجری
۱۶اپـــــــــــــــــــریل۲۰۲۳عیسوی بروز یکشنبه ــــــــــــــــــ اتوار
Previous Post Next Post