مسئله:- مسلمانوں پر تراویح کی نماز جماعت سے پڑھنا کیا ہے؟
:بِسمِ اللّٰهِ الْــرَّحْـــمٰنِ اْلْــــرَّحِـــــیمْ
:الجـــواب بعـــون المــــلک الوھــــــاب
مسلمانوں پر تروایح کی نماز جماعت سے پڑھنا سنتِ کفایه ہے اگر سارے مسلمان ترک کر دیں تو گناہ گار ہوں گے اور اگر کسی ایک نے تنہا پڑھ لی تو گناہ گار نہیں جیسا که فقیه، محدث، عالم، حافظِ احادیثِ کریمه حضرتِ علامه علاء الدین حصکفی رحمۃ اللّٰه تعالیٰ علیه تحریر فرماتے ہیں:
وفی التراویح سنۃ کفایۃ وفی وتر رمضان مستحبۃ علی قول-
یعنی تراویح کی نماز میں جماعت سنت کفایه ہے که محله کے کچھ لوگ بھی جماعت سے تروایح ادا کر لیں گے تو سبھوں کے ذمه سے ساقط ہو جائے گی اور رمضان کے دنوں میں وتر کی جماعت ایک قول پر مستحب ہے اور اسی پر عمل ہے-
*{در مختار مع کشف الاسرار جلد اول صفحه ۴۱۸، ۴۱۹، کتاب الصلوٰۃ}*
اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت مفتی حکیم محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:
تراویح میں جماعت سنتِ کفایہ ہے کہ اگر مسجد کے سب لوگ چھوڑ دیں گے تو سب گنہگار ہوں گے اور اگر کسی ایک نے گھر میں تنہا پڑھ لی تو گنہگار نہیں مگر جو شخص مقتدا ہو کہ اس کے ہونے سے جماعت بڑی ہوتی ہے اور چھوڑ دے گا تو لوگ کم ہو جائیں گے اسے بلا عذر جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں ۔
(بہار شریعت جلد اول حصه چہارم صفحه نمبر۶۹۶، باب تراویح کا بیان)
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۵// رَمْـضَــــــانُــــ اْلْـمُــــــــــــبَارَك ١٤٤٤ هِــــجْرِى
۲۸// مـــارچ ۲۰۲۳ عیسوی بروز سه شنبه ـــــــــــــــــــــــ منگل
Tags:
تراویح کا بیان