تراویح میں بیس رکعت ہونے کی حکمت کیا ہے؟

مسئله:-    زید اور عمر میں اس بات پر بحث ہوئی زید کہتا ہے که تراویح کی رکعت ہونے میں اختلاف ہے اگر بیس رکعت ہوں بھی تو  بیس رکعت  ہونے کی ہونے کی یه حکمت ہے که اس سے فرائض و واجبات کی تکمیل ہوتی ہے اور عمر کا کہنا ہے که تراویح کی بیس رکعت ہونے سے سنت کی تکمیل ہوتی ہے آیا ان دونوں میں کس کا قول درست ہے؟ 
بِســـمِ الـــلّٰه الـــرحــمٰن الـــرحیم
الجـــواب بعـــون المــــلک الوھــــــاب
 عند الفقہا زید کا  قول درست ہے تراویح کی بیس رکعت ہونے کی حکمت یه ہے که اس سے فرائض و واجبات کی تکمیل ہوتی ہے اور کل فرائض و واجب کی ہر روز بیس رکعتیں ہیں جیسا که خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت مفتی حکیم محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:
      جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی بیس رکعتیں  ہیں  اور یہی احادیث سے ثابت، بیہقی نے بسند صحیح سائب بن یزید رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ لوگ فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں  بیس رکعتیں  پڑھا کرتے تھے۔  اور عثمان و علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے عہد میں  بھی یوہیں  تھا۔  اور موطا میں  یزید بن رومان سے روایت ہے، کہ عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں  لوگ رمضان میں  تیئس ۲۳ رکعتیں  پڑھتے۔  بیہقی نے کہا اس میں  تین رکعتیں  وتر کی ہیں ۔  اور مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنه نے ایک شخص کو حکم فرمایا: کہ رمضان میں  لوگوں  کو بیس ۲۰ رکعتیں  پڑھائے۔  نیز اس کے بیس رکعت ہونے میں  یہ حکمت ہے کہ فرائض و واجبات کی اس سے تکمیل ہوتی ہے اور کل فرائض و واجب کی ہر روز بیس ۲۰ رکعتیں  ہیں ، لہٰذا مناسب کہ یہ بھی بیس ہوں  کہ مکمل و مکمل برابر ہوں ۔
{بہار شریعت جلد اول حصه،۴، صفحه نمبر،۶۹۳، ۶۹۴}
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۶/ رمضان المبارک شریف ۱۴۴۴ھجری 
۲۹/ مـــارچ ۲۰۲۳ عیسوی بروز چہار شنبه ــــــــــــ بدھ
Previous Post Next Post