مسئله:- اگر کسی نے بھوک یا پیاس کی شدت اس قدر که جان کا اندیشه تھا اس نے روزہ توڑ دیا اور اس روزے کا قضا دوسرے رمضان المبارک کے بعد میں رکھا تو اب اس روزہ کا قضاء قبول ہوگا یا نہیں؟
بِسمِ اللّٰهِ الْــرَّحْـــمٰنِ اْلْــــرَّحِـــــیمْ
الجـــــواب بعـــــون المــــــلک الــــــوھاب
اگر کسی شخص نے بھوک یا پیاس کی شدت کی وجہ سے جان کا اندیشه تھا اور اس نے روزہ توڑ دیا تو اس پر شریعتِ مطہرہ کا حکم یه ہے که عذر جانے کے بعد دوسری رمضان کے آنے سے پہلے قضا رکھ لیں کیونکہ قضا روزہ نہیں نہیں رکھا اور رمضان آگیا تو اس رمضان کے روزے قبول نہ ہوں گے جیساکه خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں
جن لوگوں نے ان عذروں کے سبب روزہ توڑا، اُن پر فرض ہے کہ ان روزوں کی قضا رکھیں اور ان قضا روزوں میں ترتیب فرض نہیں ۔ء فلہٰذا اگر ان روزوں کے پہلے نفل روزے رکھے تو یہ نفلی روزے ہوگئے، مگر حکم یہ ہے کہ عذر جانے کے بعد دوسرے رمضان کے آنے سے پہلے قضا رکھ لیں ۔
حدیث میں فرمایا: ’’جس پر اگلے رمضان کی قضا باقی ہے اور وہ نہ رکھے اس کے اس رمضان کے روزے قبول نہ ہوں گے۔‘‘ اور اگر روزے نہ رکھے اور دوسرا رمضان آگیا تو اب پہلے اس رمضان کے روزے رکھ لے، قضا نہ رکھے، بلکہ اگر غیر مریض و مسافر نے قضا کی نیّت کی جب بھی قضا نہیں بلکہ اُسی رمضان کے روزے ہیں ۔
وَاللّٰهُ سبحانه تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
(بہار شریعت جلد اول صفحه نمبر۱۰۱۰)
۲۱رمضان المبارک شریف ۱۴۴۴ھجری
۱۳اپـــــــریل۲۰۲۳عیسوی بروز پنجشنبه ــــــــــــــــــــــــــ جمعرات
Tags:
روزہ کا بیان