مسئله:- عقیقه کے بکرے کی سانڈھے کے علاوہ ساری ہڈیاں توڑنا کیسا ہے؟
بِســــمِ الــــلّٰهِ الرَّحــــمٰنِ الرَّحِــــیم
الجـــــواب بعـــــون المــــــلک الــــــوھاب عقیقه کے بکرے کی توڑنا جائز ہے اس میں گوئی قباحت نہیں ہاں بہتر ہے نہ توڑا جائے۔اس میں بچے کے اعضاء سلامت رہنے کے فال ہے جیساکه سرکار اعلیٰ حضرت رضی ﷲ عنه تحریر فرماتے ہیں
عقیقه کی ہڈیاں توڑنا جائز ہے ممانعت کہیں نہیں ہاں بہتر نه توڑنا ہے که اس میں بچے کے اعضاء سلامت رہنے کے فال ہے و لہٰذا کہا گیا که یه گوشت میٹھا پکانا بہتر ہے که بچے کے شیریں اخلاقی کے فال ہو سراج وہاج میں ہے المستحب انیفصل لحمھا ولا یکسر عظمھا تفاؤلا بسلامۃ اعضاء الولد شرعۃ الاسلام وفصول علائی میں ہے لا یکسر للعقیقہ عظم اور شرح حصن حصین للعلامۃ علی القاری میں ہے ینبغی ان ولا یکسر عظامه تفاؤلا فتاوے اور فتاوے حامدیه پھر عقوددریه میں شرح جناب علامه ابن حجر سےمع تقریر ہے حکمھا کاحکام الاضحیۃ الا انه لیس طبخھا وبحلو تفاؤلا بحلاوۃ اخلاق المولود ولا یکسر عظمھا وان کسر لیکره اشعۃ اللمعات میں ہی و در کتب شافعیه مذکور است که اگر پخته تصدیق کنند بہترست واگر شیریں پزند بہتر بجہت تفاؤل بحلاوت اخلاق مولود اسی میں اس سے اوپر ہے نزد شافعی استخوانہاۓ عقیقه می شکنند ونزد مالک نے بھی اقول قضیۂ این نقل آنست که نزد مالک ممنوع باشد که اولویت ترک خود منصوص شافعیه است
فتاویٰ افریقہ صفحہ ۱۶۵)
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم
۲۲رمضان المبارک شریف بمطابق ۱۴/اپریل۲۰۲۳ بروز آدینه ــــــــــــــــ جمعةالمبارک
Tags:
عقیقہ کا بیان