مسئله:- زید اپنے محلے کی مسجد میں امامت کرتا ہے ایک حادثے میں زید کا ایک ہاتھ ٹوٹ گیا جس کی وجه سے زید کا وہ ہاتھ تکبیر تحریمه کے لیۓ نہیں اٹھا پاتا تو لوگ کہتے ہیں که زید کی امامت درست نہیں ہے آیا یہ کہ شریعت کی روشنی میں زید کی امامت درست ہے یا نہیں؟
٭بِسْـــــمِ اْللّٰــــــهِ اْلــرَّحْـــــــمٰـنِ اْلــرَّحِــــــــــیْـمْ٭
:الجـــــواب بعـــــون المــــــلک الــــــوھاب
زید کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے اور اس کی امامت بھی درست ہے لیکن اگر مقتدیوں میں کوئی شخص زید سے زیادہ علم فضل رکھنے والا ہو تو زید کے پیچھے نماز مکروہِ تنزیہی ہوگی جیساکه سرکار اعلیٰ حضرت رضی ﷲ عنه ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں
خیال مذکور غلطہے اس کے پیچھے جوازِ نماز میں کلام نہیں ہاں غایت یه ہے که اسکا غیر اولٰی ہونا ہے وہ بھی اس حالت میں که یه شخص تمام حاضرین سے علم و مسائل نماز و طہارت میں قیادت رکھتا ہو ورنه یہی بحق و اولٰی ہے-
فی ردالمختار تحت قوله تکرہ خلف امرد وسفیه مفلوج وابرص الج وکذالک اعرج یقوم ببعض قدمه فالاقتداء بغیره اولٰی تاتار خانیۃ وکذا اجذم بر جندی و محبوب وحاقن ومن له ید واحد فتاوی الصوفیۃ عن التحفۃ وفی الدر ویکرہ امامۃ الاعمی الا ان یکون اعلم القوم فھو اولٰی
:ترجـــمه ــــــــــ ردالمختار میں ہے کہ قول امرد بےوقوف مفلوج اور ابرص کے پیچھے نماز مکروہ ہے بلخ کے تحت یہی حکم اس لنگڑے کا ہے جو اپنے قدم کے بعض حصے قیام کرتا ہو پس اس صورت میں غیر لنگڑے کی اقتداء بہتر ہوگی تاتار خانیۃ صاحب جزام کا بھی یہی حکمہے بر جندی مقطوع الذکر پیشاب روک رکھنے والا اور وہ شخص جس کا ایک ہاتھ ہو اس کا یہی حکم ہے فتاویٰ صوفیه میں تحفه کے حوالے سے ہے اور در مختار میں ہے که نابینا شخص کی امامت مکروہ ہے سواۓ اس صورت کے که وہ قوم میں سب سے زیادہ عالم ہو تو اس صورت میں وہی امامت کے زیادہ لائق و افضل ہے
واللّٰه تعالیٰ اعلم ورسوله ﷺ اعلم بالصواب
{فتاویٰ رضویه شریف جلد ششم صفحه نمبر۴۵۰ رضا فاؤنڈیشن لاہور}
۱۸ رمضان المبارک شریف ۱۴۴۴ ھجری
۹ اپــــــــریل ۲۰۲۳ عیسوی بروز دوشنبه ـــــــــــــــــــــــ پیر شریف
Tags:
امامت کا بیان