مسئله:- کیا صدقۂ فطر نکالنے کے لیۓ عاقل بالغ ہونا شرط ہے؟
:بِســــمِ الــــلّٰهِ الرَّحــــمٰنِ الرَّحِــــیْم
:الجــــواب بعــــون المـــــلک الـــــوھاب
صدقۂ فطر نکالنے کے لئے عاقل بالغ ہونا شرط نہیں بلکه ہر اس آزاد مسلمان و مالک نصاب پر جس کی نصاب حاجت اصلیه سے فارغ ہو اس پر واجب ہے جیساکه فقیه اعظم محدث عالم حافظ احادیث مبارکه حضرت علامه علاء الدین حصکفی رضی ﷲ عنه تحریر فرماتے ہیں
کل حر مسلم ولو صغیراً او مجنوناً حتی لولم یخرجھا ولیھما وجب الاداء بعد البلوغ ذی نصاب فاضل عن حاجته الاصلیته کدینه وحوائج عیاله وان لم ینم کما مر-
ترجمہ صدقۂ فطر ادا کرنا ہر مسلمان آزاد پر واجب ہے جو نصاب والا ہو اور وہ نصاب اس کی حاجت اصلیه سے اور اس کے اہل و عیال کی ضرورت سے زیادہ ہو جیسے دَین وغیرہ
(در مختار جلد دوم صفحه ۱۹۲، کتاب الزکوٰۃ باب الفطر)
اور فقیه ہند خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعه بدرالطریقه حضرت حکیم مفتی محمد امجد علی اعظمی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں
صدقۂ فطر ہر مسلمان آزاد مالکِ نصاب پر جس کی نصاب حاجت اصلیہ سے فارغ ہو واجب ہے۔ اس میں عاقل بالغ اور مال نامی ہونے کی شرط نہیں ،
(بہار شریعت جلد اول صفحه نمبر۹۴۱،حصه پنجم،باب صدقۂ فطر کا بیان)
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۱۷ رمضان المبارک شریف ۱۴۴۴ ھجری
۸ اپـــــــــریل ۲۰۲۳ عیسوی بروز اتــوار
Tags:
صدقۂ فطر کا بیان