گاؤں میں امامت نہیں کرتا ہے تو وقت سے ہونے سے پہلے چلے جانا چاہیے

مسئلہ:- زید اپنے گاؤں میں امامت نہیں کرتا ہے اور وہ تراویح کی نماز پڑھانے کے لیۓ  دوسرے گاؤں میں امامت کرتا ہے تو اس کو گھر سے کس وقت جانا چاہیۓ؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھــــــاب
وقت ہونے سے پہلے چلاجانا چاہیے وقت ہونے کے بعد جانا مکروہ ہے، 
جیسا کہ بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۵۷۲ میں ہے : 
کوئی شخص صالح اِمامت ہے اور اپنے محلّہ کی اِمامت نہیں  کرتا اور وہ ماہِ رمضان میں  دوسرے محلّہ والوں  کی اِمامت کرتا ہے، اسے چاہیے کہ عشا کا وقت آنے سے پہلے چلا جائے، وقت ہو جانے کے بعد جانا مکروہ ہے، 
والله تعالیٰ اعلم
۲۱ شعبان المعظم ۱۴۴۴ ھجری
Previous Post Next Post