بغیر رؤیت شرعی کے عید اور بغیر ثبوت شرعی کے عید کی نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟

مسئله:-    جن‌ لوگوں نے ۲۹ رمضان کو بغیر رؤیت کے اور بغیر ثبوت شرعی عید کی نماز پڑھ لی تو وہ لوگ کتنے دن کا قضاء روزہ رکھیں؟
بِســــمِ الــــلّٰهِ الرَّحــــمٰنِ الرَّحِــــیم
الجـــــواب بعـــــون المــــــلک الــــــوھاب
جو لوگ ۲۹رمضان کو بغیر رؤیت کے اور بغیر ثبوت شرعی عید کی نماز پڑھ لیئے  تو ان لوگوں پر ایک روزہ کی قضاء اور توبہ لازم ہے جیساکه فتاویٰ فقیه ملت حضرت العلام علامہ و مولانا مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں
اگر ۲۹رمضان کو  رؤیت نه ہوئی تو جن‌ لوگوں نے  بغیر ثبوت شرعی عید کی نماز پڑھ لی ان پر ایک روزہ کی قضاء اور توبه لازم ہے ہاں اگر بعد میں ۲۹رمضان کی رؤیت ثبوت شرعی سے ثابت ہو گئی تو روزہ کی قضاء نہیں مگر توبه بہر صورت ہے لہٰذا ایسے لوگ اگر اعلانه توبه نه کریں تو ان کے پیچھے نماز نه پڑھیں جاۓ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: جو لوگ غیر ثبوت شرعی مان کر عید کرلیں تو ان پر ایک روزہ کی قضاء لازم‌ہے اگرچه واقع وہ دن عید کا ہو مگر یه که بعد ثبوت شرعی سے اس دن عید ثابت ہو جائے تو اس روزہ کی قضاء نه ہوگی صرف بے ثبوت شرعی شرعی  عید کر لینے  کا  گناہ ہے جس سے توبه کریں- واللّٰه تعالیٰ اعلم ورسوله ﷺ اعلم بالصواب
{فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحه نمبر ۴۸۹ باب کتاب الصوم}
(فتاویٰ افریقه شریف صفحه نمبر ۱۴۱)
۲۳رمضان المبارک شریف ۱۴۴۴ھجری 
۱۵اپریل۲۰۲۳عیسوی بروز یکشنبه ــــــــــــــــــ سنیچر
Previous Post Next Post