طواف کا ساتواں چکر پورا ہونے کے بعد بھول سے آٹھ کرلیا تو کیا حکم ہے؟

مسئله:-   ایک شخص کعبةاللّٰه شریف کا طواف کر رہا تھا سات مرتبہ طواف کرنے کے بعد پھر آٹھواں طواف کرنے یہ گمان کرکے یہ ساتواں پھیرا ہے اور بعد کو معلوم ہوا کہ سات ہو چکے ہیں تو اب وہ شخص سات پھیرا اور لگاۓ یا اسی پر طواف کو ختم کر دے؟
:بِسمِ الــلّٰهِ الْــرَّحْـــمٰنِ اْلْــــرَّحِـــــیمْ
:الــجواب بـــعون المـلک الوھــــاب
صورت مسئولہ میں آٹھویں پھیرے پر طواف ختم کردے مزید  سات پورے کرنے کی ضرورت نہیں
جیسا کہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان در مختار وردالمحتار کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں
   طواف سات پھیروں   پر ختم ہوگیا، اب اگر آٹھواں   پھیرا جان بوجھ کر قصداً شروع کر دیا تو یہ ایک جدید طواف شروع ہوا، اسے بھی اب سات پھیرے کرکے ختم کرے۔ یوہیں   اگرمحض وہم و وسوسہ کی بنا پر آٹھواں   پھیرا شروع کیا کہ شاید ابھی چھ ہی ہوئے ہوں   جب بھی اسے سات پھیرے کرکے ختم کرے۔ ہاں   اگر اس آٹھویں   کو ساتواں   گمان کیا بعد میں   معلوم ہوا کہ سات ہو چکے ہیں   تو اسی پر ختم کردے سات پورے کرنے کی ضرورت نہیں ۔ 
(بہار شریعت حصہ ششم صفحہ ۱۱۰۷ طواف کے مسائل) 
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۸شعبان المعظم شریف ۱۴۴۴ھجری 
۱مارچ۲۰۲۳عیسوی بروز چہار شنبه ـــــــــــــــــــــــــ بدھ
Previous Post Next Post