مسئله:- زید نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی اور طلاق کے بعد ہندہ نے حمل کا دعویٰ کیا اور زید سے ہندہ اپنا خرچه مانگ رہی ہے تو زید نے اس شرط کے ساتھ خرچه دینے کا اقرار کیا که مَیں خرچه دونگا لیکن اگر تُو حمل سے نہ ہوگی تو مَیں خرچه کا پیسه واپس لے لونگا اور ایک سال کے بعد پته چلا کہ ہندہ حمل سے نہیں تھی تو اب زید ہندہ سے دیا ہوا خرچه کا پیسه واپس لے سکتا ہے یا نہیں؟
:بِســمِ الـلّٰهِ الْــرَّحْـــمٰنِ اْلْــــرَّحِـــــیمْ
:الـــجواب بعــون الملک الوھاب
صورتِ مسئوله میں زید ہندہ سے دیا خرچه کا پیسه واپس نہیں لے سکتا اگرچه ہندہ کا دعویٰ غلط نکلا اور ایک سال کے بعد بھی معلوم ہوا ہو ،
در مختار میں ہے
فَلَوْ مَضَتَا ثُمَّ تَبَیَّنَ اِنْ لَا حَبْلَ فَلَا رُجُوعَ عَلَیْھَا وَاِنْ شَرْطُهٗ لِاَنَّهٗ شَرْطٌ بَاطِلٌ بِحُرّ ِ وَلَوْ صَالِحُھَا عَلٰی نَفْقِهِ اْلْعِدَّۃِ اِنْ بِالْاَشْھُرِ صَحَّ وَاِنْ بِالْحَیْضِ لَا لِلْجِھَالَۃِ
(کتاب الطلاق )
ترجمه پس اگر عورت نے دعویٰ کیا اور طلاق کے بعد دو برس تک نفقه جاری رہا-پھر بعد ظاہر ہوا که حمل نہیں تھا-تو عورت سے نفقه واپس لینے کا حق نہیں ہے-اگرچه شوہر نے اسکی شرط بھی کرلی ہو-اس لیۓ که یہ شرط باطل ہے اور اگر میاں بیوی دونوں نے صلح کرلی عدت کے نفقه پر تو اگر عدت مہینوں سے ہوگی تو صلح درست ہے اور اگر عدت حیض سے گزرے گی تو درست نہیں جہالت کی وجه سے اور اگر کسی عادل شخص نے اس کے لیۓ نفقه مقرر کردیا اور ایک برس گزرنےکے بعد معلوم پڑا که ہندہ کے حمل نہیں تھا-تو اب زید کو اس کی اجازت نہیں ہے که وہ اپنی بیوی ہندہ سے خرچه کا پیسه واپس لے تو اگرچه زید نے اس کی شرط ہی کیوں نه کرلی ہو یعنی یہ کہا ہو کہ تیرے حمل کا دعویٰ اگر غلط نکلا تو میں خرچہ کا پیسہ واپس لے لونگا اس لیۓ یہ شرط باطل ہے-
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۷شعبان المعظم شریف ۱۴۴۴ ھجری
۲۸فروری۲۰۲۳عیسوی بروز سه شنبه ــــــــــــ منگل
Tags:
نفقہ کا بیان