مسئلہ حائضہ عورت کے ہاتھ کے دھُلے ہوئے کپڑے میں نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
ائضہ عورت کے ہاتھ کا دھلا ہوا کپڑا پاک ہے اور اُسے پہنکر بلا کراہت نماز ہوجائے گی اس لئے کہ غسل کو واجب کرنے والی ناپاکی خواہ حیض و نفاس کی وجہ سے ہو یا اور کسی وجہ سے یہ ناپاکی صرف حکماً ہوتی ہے جسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسکی وجہ سے اس پر غسل کرنا فرض ہوگیا ہے اسکا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہوتا کہ اسکے ہاتھ وغیرہ اعضاء بدن نجاست سے بھرے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ناپاک آدمی کو قرآن مجید کے علاوہ دوسرے اور اوراد و وظائف, دعائیں, کلمہ شریف اور درود شریف پڑھنا اور چھونا بلا کراہت جائز ہے -
جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے
" یجوز للجنب والحائض الدعوات و جواب الأذان و نحو ذالک کذا فی السراجیۃ و مس ما فیہ ذکر اللہ تعالیٰ سوی القرآن قد اطلقہ عامۃ مشائخنا ھکذا فی النھایۃ " اھ
جلد اول صفحہ ۳۸ ۳۹ کتاب الطھارۃ ، الفصل الرابع فی احکام الحیض)
اور حدیث شریف میں ہے_
" عن عائشۃ قالت قال لی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ناولنی الخمرۃ من المسجد فقلت انی حائض فقال ان حیضتک لیست فی یدک "
یعنی؛ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت ہے کہ عرض کرتی ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاتھ بڑھاکر مصلی اٹھادینا تو انہوں نے عرض کیا کہ میں حالت حیض میں ہوں حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں " اھ
(مسلم شریف جلد اول صفحہ ۲۴۳ باب جواز غسل الحائض رأس زوجھا و ترجیلہ من کتاب الحیض )
والله تعالیٰ اعلم
4 مارچ 2023 عیسوی
Tags:
نماز کا بیان