مُقْرِضْ فَوت ہوگیا تو کیا مَقْروض قرض کی رقم مسجد وغیرہ میں دے سکتا ہے؟


 (اِسْتِـــفْتَاء)_السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسئلہ میں کہ زید و بکر دوست تھے، زید نے بکر سے قرض لیا اور ادا بھی نہ کیا تھا کہ بکر فوت ہو گیا، اب زید چاہتا ہے کہ ان روپیوں کو مسجد یا کسی غریب کو دے دے. تو کیا یہ درست ہے؟ 
(مُسْتَـــفْتِیْ): غلام ازہری رضا اسماعیلی، بنارس، یوپی.

وَعَلَيْـــــكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ 
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ زید ان روپیوں کو خود مسجد میں یا کسی غریب کو نہیں دے سکتا؛ کیونکہ بکر کے مال پر بکر کے ورثہ کا حق ہے. الدر المختار مع ردالمحتار میں ہے:"(وَيُسْتَحَقُّ الْإِرْثُ)"(کتاب الفرائض) 
 ردالمحتار میں اس کے تحت ہے:"(قَوْلُهُ وَيُسْتَحَقُّ) بِالْبِنَاءِ لِلْمَجْهُولِ أَوْ لِلْمَعْلُومِ، وَضَمِيرُهُ لِلْوَارِثِ الْمَفْهُومِ مِنْ الْمَقَامِ اھ."(ایضاً)
 اور اگر بکر کے سب ورثہ بالغ ہوں تو سب کی اجازت سے ان روپیوں کا مسجد وغیرہ میں دینا درست ہو گا. لیکن کسی بالغ کی اجازت نہ ہو یا کوئی نابالغ ہو تو دینا درست نہیں. ہاں! کوئی وارث اپنے حصے کا روپیہ دینا چاہے تو دے سکتا ہے. ایسا ہی بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم کفن کے بیان میں ہے. 
 فتاوی ہندیہ میں ہے:"(فَمِنْهَا الْعَقْلُ وَالْبُلُوغُ) فَلَا يَصِحُّ الْوَقْفُ مِنْ الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ كَذَا فِي الْبَدَائِعِ. صَبِيٌّ مَحْجُورٌ عَلَيْهِ وَقَفَ أَرْضًا لَهُ فَقَالَ الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ: وَقْفُهُ بَاطِلٌ إلَّا بِإِذْنِ الْقَاضِي وَقَالَ الْفَقِيهُ أَبُو الْقَاسِمِ: وَقْفُهُ بَاطِلٌ وَإِنْ أَذِنَ لَهُ الْقَاضِي؛ لِأَنَّهُ تَبَرُّعٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ."(کتاب الوقف/الباب الاول...) واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ. 

کتبــــــــــــــــــــــــــبه:معصوم رضا نوری ارشدی، بلرام پور، یوپی انڈیا.
14/نومبر//2022 بروز دوشنبہ
 تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
 حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
 حضرت مولانا مفتی رضوان احمد مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.

 سنی رضوی دارلافتــاء
Previous Post Next Post