(استفتاء)_السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ_ کیا فرماتے ہیں کہ علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کا ایک لڑکی سے ناجائز تعلقات تھے، اور بعد میں دونوں کی شادی بھی ہو گئی، لیکن شادی کے چار ماہ بعد بیٹی پیدا ہوئی، بچی کی پیدائش کے بعد وہ اقرار کررہے ہیں کہ ہم نے زنا کیا تھا. اب سوال ہے کہ اس بچی کا کیا حکم ہو گا؟ وراثت میں حصہ ہو گا کہ نہیں؟ کیا وہ بچی جائز کہلاۓ گی یا ناجائز؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مفصل ومدلل جواب عنایت فرمائیں.
(مستفتی:)محمد محبوب عالم رضوی نائیگاؤں ضلع ناندیڑ مہاشٹرا.
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ منکوحہ عورت کو اگر نکاح کی تاریخ سے چھ ماہ بعد بچہ پیدا ہوا تو بچہ ثابت النسب مانا جائے گا. اور اگر نکاح کی تاریخ سے چھ مہینے سے پہلے بچہ پیدا ہو جائے تو بچہ کا نہ تو نسب ثابت ہوگا اور نہ ہی وارث ہوگا، البتہ اگر خاوند یہ اقرار کرے کہ یہ بچہ میرا ہے تو قضاءًا معتبر ہوگا دیانتًا نہیں، اور اگر یہ کہے کہ یہ زنا سے میرا بچہ ہے تو دیانتًا اور قضاءًا ہر طرح ثبوت نہیں ہوگا.
اب صور مسئلہ میں جب دونوں اس بات کا اقرار کررہے ہیں کہ انہوں نے شادی سے پہلے معاذاللہ زنا کیاتھا، پھر بچی کی پیدائش کے بعد بھی زنا کا اقرار کررہے ہیں، نیز بچی کا چار مہینے بعد ہی اور چھ مہینے سے پہلے پیدا ہونے کی حالت بھی دونوں کے زنا کے اقرار کی تائید کرتی ہے، اس لیے اس بچی کا نسب قضاءًا بھی ثابت نہیں، اور نہ ہی وہ وارث ہوگی. جیسا کہ بہار شریعت میں ہے:"کسی عورت سے زنا کیا پھر اُس سے نکاح کیا اور چھ مہینے یا زائد میں بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت ہے، اور کم میں ہوا تو نہیں اگرچہ شوہر کہے کہ یہ زنا سے میرا بیٹا ہے."(ج:دوم، ح:ہشتم،ص: ٢٥٣،مکتبة المدینة)
فتاوی عالمگیری میں ہے: "إذا زنا بامرأة ثم تزوجها فولدت منه إن جاءت به لستة عشر فصاعدا يثبت نسبه إلا ان يدعيه ولم يقل إنه من الزنا إلا ان قال أنه من الزنا فلا يثبت نسبه ولا يرث منه" اھ(ج: ۱، ص ۵٤٠ كتاب الطلاق ،الباب الخامس عشر )
اور اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"ولد الزنا کا نسب زانی سے نہیں ثابت ہوسکتا اگر چہ وہ اقرار بھی کرے حدیث صحیح میں ارشاد فرمایا: الولد للفراش و للعاهر الحجر" اھ جس حدیث کا ٹکڑا ہے اس میں زانی کا اقرار بھی موجود ہے پھر بھی حضور اقدس صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم نے نسب ثابت نہ فرمایا، جب نسب ہی نہیں تو وارث کیونکر ہوگا.(فتاوی امجدیہ ج ۲ ص ۲۹۲ )
فتاوی شامی میں ہے:"قَوْلُهُ: وَالْوَلَدُ لَهُ) أَيْ إنْ جَاءَتْ بَعْدَ النِّكَاحِ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ مُخْتَارَاتُ النَّوَازِلِ، فَلَوْ لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مِنْ وَقْتِ النِّكَاحِ، لَا يَثْبُتُٹ النَّسَبُ، وَلَا يَرِثُ مِنْهُ إلَّا أَنْ يَقُولَ هَذَا الْوَلَدُ مِنِّي، وَلَا يَقُولُ مِنْ الزِّنَى خَانِيَةٌ. وَالظَّاهِرُ أَنَّ هَذَا مِنْ حَيْثُ الْقَضَاءُ، أَمَّا مِنْ حَيْثُ الدِّيَانَةُ فَلَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَدَّعِيَهُ؛ لِأَنَّ الشَّرْعَ قَطَعَ نَسَبَهُ مِنْهُ، فَلَا يَحِلُّ لَهُ اسْتِلْحَاقُهُ بِهِ وَلِذَا لَوْ صَرَّحَ بِأَنَّهُ مِنْ الزِّنَى لَا يَثْبُتُ قَضَاءً أَيْضًا، وَإِنَّمَا يَثْبُتُ لَوْ لَمْ يُصَرِّحْ لِاحْتِمَالِ كَوْنِهِ بِعَقْدٍ سَابِقٍ أَوْ بِشُبْهَةٍ حَمْلًا لِحَالِ الْمُسْلِمِ عَلَى الصَّلَاحِ، وَكَذَا ثُبُوتُهُ مُطْلَقًا إذَا جَاءَتْ بِهِ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ مِنْ النِّكَاحِ لِاحْتِمَالِ عُلُوقِهِ بَعْدَ الْعَقْدِ..."(ردالمحتار علی الدر المختار ،ج3ص49 شاملہ)واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ.
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدی عفی عنہ
١٨ محرم الحرام ۱۴۴۴ ھجری، ١٧ اگست ۲۰۲۲ عیسوی چہار شنبہ
تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
حضرت مولانامفتی ذیشان ضیاء مصباحی صاحب،خیرآباد مئو یوپی، انڈیـــا.
حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
سنی رضوی دارلافتــاء
Tags:
ثابت النسب کا بیان