زید اپنی فوت شدہ بیوی کا مہر ادا کرنا چاہے تو کس طرح ادا کرے؟


 (استفتاء)_السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ_ کیافرماتے ہیں علمائے اہل سنت مسئلہ ھذا میں کہ زید کی بیوی کاانتقال ہوگیا، مگر زید نےاس کا مہر ادانہیں کیا تھا، اب مسئلہ معلوم ہونے پراپنی فوت شدہ بیوی کا مہر اداکرناچاہتاہے وہ مہرکس کودے جس سےزید برئ الذمہ ہوجائے. اگرہوسکےتو حوالہ بھی عنایت فرمادیں
کرم ہوگا. 
(مستفتی):احقرالعباد محمد افتخار اشرفی، قصبہ بسولی، ضلع بدایوں یوپی.

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ 
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں زید عورت کے ورثہ کو مہر کی رقم، یا زیور جس پر مہر طے ہونا قرار پایا تھا اسے دیدے، 
اگر شوہر نے مہر ادا نہیں کیا تھا اور عورت بغیر معاف کئے مرگئی تو اب یہ اس کا ترکہ ہے جو اس کے وارثین کا حق ہے. ایسا ہی فتاویٰ امجدیہ جلد اول صفحہ ۱۴۸ پر ہے، 
اور بدائع الصانع، جلد دوم، صفحہ ۵۸۹ میں ہے:
_"لایسقط عن الزوج شئ من المهر بل یتأ کدالمهر والمهر فی تلک الحالة ملک الورثه اھ ملخصا"_(یعنی عورت کے مرنے سے) مہر شوہر کے ذمہ سے ساقط نہیں ہوگا، بلکہ مؤکد ہوجائے گا اور اس صورت میں وہ وارثین کا حق ہوگا. 
لہذا اگر عورت اولاد چھوڑ کر فوت ہوئی ہے تو مہر کا چوتھائی حصہ شوہر کا ہے، ورنہ آدھا اس کا ہے، خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَٰجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ"(پارہ ۴، سورۂ النساء، آیت ۲۱)
اور مابقیہ مہر عورت کے دیگر ورثہ کا ہے شوہر انہیں ان کے حصے کے مطابق پہنچا دے تو وہ برئ الذمہ ہوجائے گا.(بحوالہ فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول صفحہ ۴۲۲) واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ. 

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:محمد معصوم رضا نوریؔ  ارشدی عفی عنہ
۱۷ محرم الحرام ۱۴۴۴ ھجری۱۶ اگست ۲۰۲۲ عیسوی سہ شنبہ

 تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
 حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.

 سنی رضوی دارلافتــاءـ
Previous Post Next Post