● (استفتاء) اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ، ذیل کے بارے میں کہ پتنگ اڑانا یا لوٹنا کیسا ہے؟ نیز اگر کوئی امام یہ کہتا ہے کہ پتنگ اڑانے یا لوٹنے میں کوٸ قباحت نہیں محض تفریح ہے تو اسکے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہوگا؟؟
(مستفتی):محمد سہیل بلرامپور(یوپی)
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ:● سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتےہیں:"کنکیا (پتنگ) اڑانےمیں وقت مال کا ضیاع ہوتاہے، یہ بھی گناہ کے آلات، کنکیا ڈور بیچنا بھی منع ہے."(فتاوی رضویہ ج٢٤،ص٦٦٠، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
دوسری جگہ فرماتےہیں:"کنکیا اڑانا منع ہے اور لڑانا گناہ."(ایضا،ص:٦٦۱)
لہذا صورت مسئولہ میں امام نے اگر بے احتیاطی نہ کی اور بھول کر غلط مسئلہ بتایا تو اس کے پیچھے نماز بلا کراہت ہوجائے گی، لیکن اگر جان بوجھ کر غلط مسئلہ بتایا تو غلط مسئلہ بتانے کے سبب فاسق و فاجر اور سخت گنہگار مستحق عتاب جبارہے، اسے امام بنانا گناہ ہے. جب سے اس نے غلط مسئلہ بتایا ہے اس کے بعد جتنی نمازیں اس کے پیچھے پڑھی گئیں ہیں ان کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے.
فتاویٰ رضویہ میں ہے:"جُھوٹا مسئلہ بیان کرنا سخت شدید کبیرہ (گناہ) ہے، اگرقَصداً ہے تو شریعت پر افتِراء(یعنی جھوٹ باندھنا) ہے، اور شریعت پرافتِراء اللہ عَزَّوَجَلَّ پرافتِراء ہے، اور اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ"(پ۱۱ یونس،۶۹)
ترجَمۂ کنزالایمان:_وہ جو اللہ (عَزَّوَجَلَّ) پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہو گا. اگر عالم بھول کر غلط مسئلہ بتا دے تو گناہ نہیں اور اگر بے علمی سے ہے تو جاہِل پر سخت حرام ہے کہ فتویٰ دے. ہاں اگر عالِم سے اِتِّفاقاً سَہو(بھول) واقِع ہوا اور اُس نے اپنی طرف سے بے احتِیاطی نہ کی اور غَلَط جواب صادِر ہوا تو مُواخَذَہ نہیں، مگر فرض ہے کہ مُطَّلع ہوتے ہی فوراً اپنی خطا ظاہِرکرے، اِس پر اِصرار کرے تو پہلی شِق یعنی اِفتِراء(جھوٹ باندھنا) می آ جائے گا._(فتاوٰی رضویہ،ج:۲۳،ص:۷۱۱، ۷۱۲). واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ.
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدی، بلرامپور یوپی انڈیا
١٥ جمادی الاخریٰ ۱۴۴۳ ھجری
الجواب صحیح والمجیب نجیح!
عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیا
Tags:
متفرقات