خطبۂ جمعہ اور تلاوتِ قرآن کے وقت نامِ محمَّد صلَّی اللہُ تعالی علیہ وسلَّم پر انگوٹھا کیوں نہیں چومتے؟



● (استفتاء)_السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ_کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ خطبہ جمعہ میں جب اسم محمد آتا ہے تو لوگ انگوٹھے کو نہیں چومتے اسی طرح سے جب کوئی عربی عبارت مثلاً قرآن مجید پڑھ رہے ہوتے ہیں تب بھی نہیں چومتے ؟اس  کی وجہ کیا ہے؟ اطمینان بخش جواب عطا فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں 
(مستفتی):حاجی عبد الخالق، بہرائچ شریف.

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ 
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ:●خطبہ میں انگوٹھا اس لیے نہیں چومتے ہیں کہ خطبہ میں  سکوتُ وسُکونْ کا حکم ہے.اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:"اذانِ خطبہ کے جواب اور اس کے بعد دُعا میں امام وصاحبین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا اختلاف ہے بچنا اولٰی، اور کریں تو حرج نہیں، یوں ہی اذانِ خطبہ میں نام ِپاک سن کر انگوٹھے چومنا اس کا بھی یہی حکم ہے لیکن خطبہ میں محض سکوت وسکون کا حکم ہے، خطبہ میں نامِ پاک سن کر صرف دل میں درود شریف پڑھیں اور کچھ نہ کریں زبان کو جنبش بھی نہ دیں."(فتاویٰ رضویہ، مترجم جِ: ہشتم،ص:۴۶۸)
●اور بوقتِ تلاوتِ قرآن اس لیے چومنے کا حکم نہیں ہے، کہ قرآن جب پڑھا جائے تو خاموش رہ کر سننے کا حکم ہے،اسی طرح ایک سوال کے جواب میں شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتئ اعظم ہند، مولانا مصطفیٰ رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"آیت کریمہ میں سرکار علیہ السلام کا اسم مبارک سن کر انگوٹھا نہیں چومنا چاہیے کہ تلاوت قرآن کے وقت سکون اور سکوت چاہیے، اس وقت دل میں درود شریف پڑھے، تلاوت قرآن عظیم کے وقت اور خطبہ میں جب جب حضور کا نام پاک سنے دل میں درود شریف پڑھے، زبان سے نہ پڑھے نہ انگوٹھے چومے، قال اللہ تعالٰی:واذا قرء القرآن فاستمعوالہ وانصتوا لعلکم ترحمون،_جب قرآن پڑھا جائے تو کان لگا کر سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے"(فتاوی مفتی اعظم ہند، ج:۳،ص:۱۲۹).واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ. 
 کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدی، بلرامپور یوپی انڈیا 
١٥ جمادی الاخریٰ ۱۴۴۳ ھجری

 الجواب صحیح والمجیب نجیح!
عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیا
Previous Post Next Post