السلام علیکــــــــم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا ایک سوال ہے کہ اگر ایک ہندو مچھلی بیچ رہا ہے
تو کیا ہم اس سے مچھلی لے سکتے ہیں۔ کیا کھانے کے لیے
سائل محمد صادق رضا جموں وکشمیر
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
کھا نے کے لیے لے سکتے ہیں کوئی حرج نہیں کیوں مچھلی میں ذبح شرط نہیں یا مسلم یا کتابی ہونا ضروری ہو، اسی طرح اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا
”جس شخص کے ہاتھ کا ذبح ناجائز ہے جیسے کہ ہنود،اس کے ہاتھ کی پکڑی مچھلی کھانا کیسا ہے؟“آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا:” جائز ہے،اگرچہ اس کے ہاتھ میں مرگئی یا اس نے مار ڈالی ہو کہ مچھلی میں ذبح شرط نہیں جس میں مسلمان یا کتابی ہونا ضرور ہو۔“
(فتاویٰ رضویہ، جلد ۲۰ صفحہ ۳۲۳،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ مولانا معصوم رضا نوری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی بلرامپور اترولہ
۲۸ جمادی الاول ۳٤٤١ھ بروز سوموار
صحیح الجواب :-
استاذ العلماء حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد شرف الدین رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی کلکتہ بنگال)
الجواب صحیح والمجیب نجیح :-
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد جابر القادری رضوی صاحب قبلہ جمشید پور
Tags:
متفرقات