(استفتاء ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ کیا فرماتےہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ سفر میں جو نماز قضا ہوئ اور سفر میں ادا نہ ہو سکی تو گھر پر آکر کیسے پڑھے چار رکعت والی نماز پوری چار رکعت پڑھے یا دو رکعت اور قضا پڑھے تو کیا دن کا نام بھی لینا ضروری ہے. حواله جات جواب عنایت فرماے مہربانی ہوگی.
(مستفتی):محمد فیاض عالم اسمعیلی کنئ سراے لوہتہ بنارس (یوپی)
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ حالتِ سفر میں جو نمازیں قضاء ہوجائیں گھر پہونچ کر انہیں قصر ہی پڑھنے کا حکم ہے جب کہ وہ شرعی مسافر رہا ہو، یعنی کم سے کم ساڑھے بانوے کیلو میٹر کے سفر کی نیت سے نکلا ہو، جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے: ان الفائتة تقضى على صفة التى فاتت إلا لعذر و ضرورة فيقضى مسافر فى السفر مافاته فى الحضر من الفرائض الرباعى اربعا و المقيم فى الاقامة مافاته فى السفر منها الركعتين.اھ(ج:١،ص:١٢١)
حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:جو نماز جیسی فوت ہوئی اس کی قضاء ویسی ہی پڑھی جائے گی مثلا سفر میں نماز قضاء ہوئی تو چار رکعت والی دو ہی پڑھی جائے گی اگر چہ اقامت کی حالت میں پڑھے. (بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ ۷۰۸ قضا نماز کا بیان)
دن کا نام زبان سے لینا ضروری نہیں، البتہ جس دن کی نماز قضا ہوئی دل میں اس کا ارادہ ہونا ضروری ہے
ایسا ہی بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ٤۹۸ میں ہے.واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ.
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدیٓ بلرام پور یوپی انڈیا
۱۵/رجب المرجب، ۱۴۴۳ھ پنجشنب
تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
حضرت مولانامفتی کہف الوری مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
Tags:
نماز کا بیان